صحت مند طرز زندگی: غذائیت اور ورزش کے رہنما اصول

 

ابتدا کہاں سے ہو

انسان جب زندگی کی دوڑ میں مسلسل بھاگتا رہتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جسم اور ذہن دونوں رک کر تھکن کا اشارہ دینے لگتے ہیں۔ اسی لمحے احساس ہوتا ہے کہ صحت کا خیال رکھے بغیر کچھ بھی حاصل کرنا ادھورا رہ جاتا ہے۔ بہتر طرز زندگی کی طرف سفر کا آغاز کسی بڑے منصوبے سے نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے فیصلہ سے ہوتا ہے کہ اب اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دینی ہے۔ یہ سفر آہستہ آہستہ مگر بہت مضبوطی سے آگے بڑھتا ہے۔ اسی لیے ابتدا آسان ہونی چاہیے تاکہ تسلسل قائم رہے اور آدمی جلد تھک کر پیچھے نہ ہٹ جائے۔

غذائیت کا بنیادی کردار

ہمارا جسم خاموشی سے ہر اس چیز کا اثر قبول کرتا ہے جو ہم کھاتے پیتے ہیں۔ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف بھوکا نہ رہنے کا نام کھانا ہے مگر اصل میں کھانا وہ ہے جو جسم کی ضرورت پوری کرے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک جسم کو اندر سے مضبوط کرتی ہے اور ہر وہ نقص دور کرتی ہے جو تھکن سستی بے دلی یا کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تازہ سبزیاں، مختلف رنگوں کے پھل، پروٹین سے بھرپور کھانے جیسے دالیں، انڈا، مرغی یا مچھلی اور ساتھ ہی سادہ گھریلو کھانا جسم کی وہ بنیاد بناتا ہے جو طویل عرصے تک مضبوط رہتی ہے۔ کھانے کا وقت بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کھانے کا معیار۔ بے وقت کھانا، دیر سے کھانا، یا اچانک بہت زیادہ کھا لینا جسم میں ایسا بوجھ ڈال دیتا ہے جو ہضم کے مسائل سے لے کر ذہنی تھکن تک پیدا کر سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ دن میں تین اہم کھانے اور درمیان میں دو ہلکے کھانے رکھے جائیں تاکہ جسم میں توانائی کی فراہمی مسلسل جاری رہے۔

خوراک کے ساتھ نظم وضبط

اکثر لوگ اچھی غذا تو کھا لیتے ہیں مگر بے ترتیب ان کی تمام محنت کو ضائع کر دیتی ہے۔ ایک دن بہت صحت مند کھانا اور اگلے دن فاسٹ فوڈ کی بھرمار یہ تضاد جسم کو الجھا دیتا ہے۔ روزانہ کا نظم و ضبط جسم کو اس حالت میں رکھتا ہے جہاں وہ بہتر طریقے سے کام کر سکے۔ باقاعدگی صرف کھانے کا نام نہیں بلکہ مقدار کا بھی ہے۔ بہت زیادہ کھانے سے جسم میں برا اثرڈالتا ہے اور بہت کم کھانے سے توانائی ختم ہوتی ہے۔ 

پانی سے جڑی حیرت انگیز حقیقت

انسانی جسم جو کہ 70فی صد پانی پر مشتعمل ہے اسی لئے پانی وہ طاقت ہے جو زندگی کے ہر حصے کو سہارا دیتی ہے۔ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ تھکن کا حل کیا ہے اور جواب زیادہ تر پانی ہی ہوتا ہے۔ جسم میں پانی کی صحیح مقدار نہ ہو تو نہ صرف ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ خون کی گردش بھی سست پڑ جاتی ہے۔
سیدھی سی بات ہے کہ پانی جسم کے ہر عمل کا خاموش سہاراہے۔ دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی پینا نہ صرف جلد کو تازہ رکھتا ہے بلکہ ہاضمہ دماغ اور عضلات سب کو تقویت دیتا ہے۔ جو لوگ ورزش کرتے ہیں انہیں عام لوگوں سے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پسینے سے جسم میں پانی کی کمی تیز ہو جاتی ہے۔ سادہ پانی سب سے بہترین انتخاب ہے۔ میٹھے مشروبات بہت کم فائدہ دیتے ہیں اور اکثر الٹا نقصان پہنچاتے ہیں۔

ورزش کا حقیقی مقصد

ورزش کو صرف جسم کم کرنے کا ذریعہ سمجھنا دراصل اس کے اصل فائدے کو چھپانا ہے۔ ورزش وہ چیز ہے جو انسان کے اندر رکھی توانائی کو حرکت دیتی ہے۔ جب جسم حرکت میں آتا ہے تو خون تیزی سے گردش کرنے لگتا ہے، سانس گہرا ہوتا ہے، دل مضبوط ہوتا ہے اور دماغ پر سکون ہوتا ہے۔
ورزش کے لیے مہنگا سامان یا پُرکشش جِم کی ضرورت نہیں۔ تیز قدموں سے چلنا، گھر میں تھوڑی سی اسٹریچنگ، سیڑھیاں چڑھنا، یا صبح شام دس بارہ منٹ کی یوگا بھی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر سکتی ہے۔
ورزش کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ ذہنی دباؤ کم کرتی ہے۔ وہ لوگ جو مسلسل پریشانی یا تناؤ میں رہتے ہیں اگر صرف روزانہ بیس منٹ ورزش کرنے لگیں تو ایک ہفتے بعد ہی وہ اپنے اندر واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔ ذہن ہلکا ہوتا ہے، مزاج بہتر ہوتا ہے، اور نیند بھی گہری ہو جاتی ہے۔

وقت کی کمی اور ورزش کا حل

آجکل کی شہر کی تیز رفتار زندگی میں اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں ورزش کے لیے وقت نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ورزش وقت مانگتی بھی نہیں، بس تھوڑی سی توجہ مانگتی ہے۔
گھر میں جھاڑو پوچھا کرنا، دفتر میں سیڑھیاں استعمال کرنا، فون پر بات کرتے وقت چلنا، بچوں کے ساتھ کھیلنا، یا کھانے کے بعد دس منٹ ہلکی چہل قدمی کرنا سب ورزش کی شکلیں ہیں۔ مقصد صرف جسم کو حرکت دینا ہے تاکہ عضلات بیدار رہیں اور خون کی روانی برقرار رہے۔

نیند کی مکمل اہمیت

جب نیند پوری نہ ہو تو نہ ورزش فائدہ دیتی ہے نہ بہترین غذا کوئی اثر دکھاتی ہے۔ نیند وہ عمل ہے جس میں جسم اپنی مرمت کرتا ہے۔ دماغ دن بھر کی تھکن کو صاف کرتا ہے۔ یادداشت بہتر ہوتی ہے اور اگلے دن کے لیے توانائی ذخیرہ ہوتی ہے۔
زیادہ تر لوگوں کو سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر نیند خراب ہو تو دن بھر چڑچڑاہٹ، تھکن، بھوک میں بے ترتیبی، کم توجہ اور سست ذہنی کارکردگی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔
بستر پر جانے سے پہلے موبائل یا لیپ ٹاپ سے دور رہنا، کمرے میں اندھیرا اور سکون رکھنا اور سونے کا وقت مقرر کرنا صحت مند نیند کو یقینی بناتا ہے۔

ذہنی سکون کے طریقے

صحت مند زندگی صرف جسم سے جڑی نہیں بلکہ ذہن سے بھی وابستہ ہے۔ ذہنی سکون وہ کیفیت ہے جو پورے وجود کو ہلکا اور متوازن رکھتی ہے۔
کچھ لمحے خاموشی میں بیٹھ جانا، گہری سانسیں لینا، ہلکی سی موسیقی سننا، کتاب کا ایک دو صفحہ پڑھ لینا یا صرف اپنے خیالات کو تھوڑی دیر روک دینا ذہن کو وہ سکون دیتا ہے جو دوائیں بھی نہیں دے سکتیں۔
جو لوگ روزانہ چند منٹ اپنے لیے نکالتے ہیں وہ زندگی میں زیادہ پر اعتماد اور زیادہ خوش رہتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دن میں پانچ وقت نماز رکھی ہے ۔

متوازن روٹین ہی ہے اصل کامیابی

صحت مند طرز زندگی کا اصل راز کسی ایک چیز میں نہیں بلکہ توازن میں ہے۔ اگر خوراک اچھی ہو مگر نیند خراب ہو تو فائدہ کم ہوتا ہے۔ اگر ورزش ہو مگر پانی کم پیا جائے تو جسم جلد تھک جاتا ہے۔
جب انسان ایک ایسی روٹین بناتا ہے جس میں کھانا پانی ورزش نیند اور ذہنی آرام سب شامل ہوں تو جسم ایک مضبوط نظام کی طرح کام کرنے لگتا ہے۔ یہی توازن انسان کو لمبے عرصے تک توانا اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

بڑھتی عمر اور صحت کی ضرورت

عمر کے ساتھ جسم کی ضرورتیں بدل جاتی ہیں مگر اصول وہی رہتے ہیں۔ خوراک میں پرہیز، ورزش میں نرمی مگر تسلسل اور نیند کا زیادہ خیال بڑھتی عمر میں بہت ضروری ہو جاتا ہے۔
جو لوگ چالیس پچاس یا ساٹھ کے بعد بھی اپنی روٹین میں تھوڑا سا نظم رکھ لیں وہ زیادہ چاق و چوبند رہتے ہیں اور روزمرہ زندگی کو بھرپور انداز میں جیتے ہیں۔


صحت مند طرز زندگی کوئی مہنگا نسخہ نہیں بلکہ چند آسان عادتوں کا مجموعہ ہے جو انسان خود اپنے لی اختیار کرتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک، مناسب مقدار میں پانی، روزانہ تھوڑی سی ورزش، پر سکون نیند اور ذہنی مطالعہ یا آرام زندگی کو اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں ہر دن ایک نئی توانائی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔
یہ سفر آہستہ شروع ہوتا ہے مگر بہت دور تک جاتا ہے۔ آج کا ایک مثبت فیصلہ کل کی بہترین صحت میں بدل جاتا ہے۔ صحت وہ تحفہ ہے جو انسان خود کو دے سکتا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔

No comments:

Post a Comment