عادتیں جو آپ کی شخصیت بدل سکتی ہیں

 

عادتیں جو آپ کی شخصیت بدل سکتی ہیں

دنیا میں ہر انسان تبدیلی چاہتا ہے۔ کوئی اپنی سوچ بدلنا چاہتا ہے، کوئی اپنا رویہ، کوئی اپنی زندگی کا راستہ اور کوئی اپنی قسمت۔ لیکن اکثر لوگ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کبھی کوئی بڑی تبدیلی آئے گی اور سب کچھ بدل جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ شخصیت وہیں بدلتی ہے جہاں عادتیں بدلتی ہیں۔ بڑے بڑے دعوے، ارادے اور لیکچر کچھ نہیں بدلتے۔ روز کی چھوٹی سی کوششیں ہی انسان کو نیا بناتی ہیں اور یہی سادہ عادتیں آپ کے اندر ایک عجیب سی طاقت پیدا کرتی ہیں۔

یہ مضمون ان عادتوں کے بارے میں ہے جو کسی بھی شخص کو اندر سے مضبوط، پراعتماد، بیدار اور باشعور بنا سکتی ہیں۔ یہ نصیحت نہیں، ایک مشاہدہ ہے۔ آپ اپنی زندگی میں تھوڑی سی جگہ ان عادتوں کو دیں اور پھر خود دیکھیں کہ آپ کا انداز، گفتگو اور رویہ کیسے تبدیل ہوتا ہے۔

اپنے دن کی شروعات سادگی سے کرنا

جس طرح صبح کا پہلا لمحہ ہوتا ہے، ویسے ہی پورا دن بن جاتا ہے۔ اگر آپ کی صبح بد نظمی، جلد بازی اور بے ترتیبی میں گزرے تو اس کا اثر شام تک رہتا ہے۔ لیکن اگر آپ دن کا آغاز تھوڑی سی پرسکون سرگرمی سے کریں تو شخصیت میں ٹھہراؤ آنے لگتا ہے۔ یہ پرسکون سرگرمی نماز ہو سکتی ہے، خاموش چہل قدمی ہو سکتی ہے، یا پھر سادہ سا کام جیسے بستر درست کرنا۔ یہ چھوٹا سا عمل آپ کے اندر نظم و ضبط پیدا کرتا ہے جو شخصیت کا بنیادی حصہ ہے۔

اپنے ذہن کو روزانہ صاف کرنا

ہماری شخصیت کے بوجھ کا زیادہ حصہ دماغ میں موجود غیر ضروری خیالات ہوتے ہیں۔ وہ باتیں جو دل پر لگی رہتی ہیں، وہ واقعات جو ذہن میں بار بار لوٹ آتے ہیں، وہ فکرمندی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ روزانہ پانچ منٹ بیٹھ کر اپنے ذہن کو خالی کرنے کی عادت ڈال لیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ یہ خاموشی انسان کو اندر سے تازہ کرتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے مراقبہ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ خود سے ملاقات ہے۔

شکرگزاری کو زندگی کا حصہ بنانا

جو لوگ شکریہ ادا کرنا سیکھ لیتے ہیں وہ اندر سے بدل جاتے ہیں۔ شکرگزاری شخصیت کو نرم کرتی ہے۔ انسان ہر چیز میں خوبی دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ شاید سوچیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن شکرگزاری کا اثر رویے، لہجے، سوچ، فیصلوں اور تعلقات تک پہنچ جاتا ہے۔ جو چیزیں پہلے بوجھ لگتی تھیں وہ قابل برداشت ہو جاتی ہیں۔ جو جگہیں پہلے تنگ لگتی تھیں وہ ہلکی محسوس ہونے لگتی ہیں۔

خود سے سچ بولنے کی عادت

شخصیت صرف اس چیز سے نہیں بنتی کہ آپ دنیا کو کیا دکھاتے ہیں بلکہ اس سے بنتی ہے کہ آپ اپنے دل میں کیا مانتے ہیں۔ اگر آپ خود سے سچ بولنے کی عادت ڈال لیں تو زندگی سیدھی چلنے لگتی ہے۔ اپنی کمزوریوں کو ماننا، غلطیوں کا اعتراف کرنا، خود کو دھوکا نہ دینا یہ سب کچھ انسان کو اندر سے طاقتور بناتا ہے۔ دنیا میں جھوٹ چل جاتا ہے لیکن خود سے نہیں۔

مطالعہ کی سادہ عادت

مطالعہ شخصیت کو نکھارتا ہے لیکن یہاں لمبے فلسفے یا بھاری کتابوں کی بات نہیں۔ دن میں صرف دس منٹ ایک اچھی تحریر پڑھنے سے سوچ وسیع ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے دماغ کے ذریعے ہی مضبوط ہوتا ہے اور مطالعہ دماغ کو بیدار رکھتا ہے۔ اچھی تحریریں انسان کے اندر ایک نئی روشنی جلاتی ہیں اور یہی روشنی شخصیت میں نمایاں ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

لوگوں کو سمجھ کر جواب دینا

بہت سے لوگ غور کیے بغیر جواب دے دیتے ہیں۔ اس سے اکثر غلط فہمیاں اور تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر آپ سننے اور سمجھنے کی عادت ڈال لیں تو آپ کا رویہ خود بخود مہذب اور پختہ ہونے لگتا ہے۔ یہ عادت شخصیت میں وزن پیدا کرتی ہے کیونکہ سمجھ کر بولنے والا شخص ہمیشہ دوسروں پر اچھا تاثر چھوڑتا ہے۔ گفتگو صرف الفاظ نہیں ہوتی بلکہ آپ کا انداز، صبر اور توازن بھی اس کا حصہ ہوتا ہے۔

اپنی غلطیوں سے سیکھنا

غلطی انسان کی فطرت ہے۔ لیکن کچھ لوگ غلطی کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ صرف بہانے تلاش کرتے ہیں۔ اصل تبدیلی وہاں آتی ہے جہاں آپ اپنی غلطی کو سب سے اچھا استاد بناتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی شخصیت کو بہتر بنا سکتی ہے اگر آپ اس سے سیکھنے کی عادت ڈال لیں۔ جو لوگ غلطیوں کو دشمن سمجھتے ہیں وہ ترقی نہیں کرتے، لیکن جو انہیں دوست سمجھیں وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

ماحول صاف رکھنا

یہ عجیب بات لگ سکتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ شخصیت کے اندر کا بکھراؤ زیادہ تر باہر کے ماحول سے جنم لیتا ہے۔ جب آپ کی ٹیبل صاف ہوتی ہے، آپ کا کمرہ ترتیب میں ہوتا ہے اور چیزیں اپنی جگہ موجود ہوتی ہیں تو ذہن بہتر کام کرتا ہے۔ صفائی ایک سادہ عادت ہے لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ یہ انسان کو ذمہ دار، منظم اور باوقار بناتی ہے۔

وقت کی قدر کرنا

وقت شخصیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں وہ خودبخود اپنی شخصیت میں مضبوطی محسوس کرتے ہیں۔ وقت کی قدر کرنا گھڑی دیکھنا نہیں بلکہ فیصلوں کو سنجیدگی سے لینا ہے۔ کون سا کام پہلے ہونا چاہیے، کون سا کام مؤخر ہو سکتا ہے، کس چیز کے لیے انتظار ممکن ہے یہ سب جاننا ایک فن ہے۔ یہ فن انسان کے کردار کو قابل اعتماد بناتا ہے۔

مثبت گفتگو کی عادت

نفسیات کہتی ہے کہ انسان اپنے کہے ہوئے الفاظ سے بھی اپنے آپ کو سکھاتا ہے۔ اگر زبان ہمیشہ شکایت اور مایوسی بیان کرتی رہے تو شخصیت بھی ویسی ہی بن جاتی ہے۔ لیکن جب آپ اپنے الفاظ بدل لیتے ہیں تو رویہ بھی بدلنے لگتا ہے۔ مثبت گفتگو سے دوسروں کو بھی سکون ملتا ہے اور آپ کی موجودگی خوشگوار محسوس ہوتی ہے۔ لوگ ایسے شخص کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں۔

اپنے کام خود کرنے کی عادت

یہ عادت شخصیت کو حیرت انگیز طریقے سے مضبوط کرتی ہے۔ خود کپڑے تہہ کرنا، اپنا کام خود وقت پر کرنا، ذاتی چیزوں کو خود سنبھالنا یہ سب چھوٹے کام ہیں مگر اثر بڑا ہوتا ہے۔ جو شخص اپنا کام خود کرتا ہے وہ دوسروں پر بوجھ نہیں بنتا۔ اس کے اندر اعتماد بڑھتا ہے اور وہ زندگی میں فیصلہ سازی بہتر طریقے سے کر پاتا ہے۔

تنہائی سے دوستی کرنا

کچھ لوگ تنہائی سے ڈرتے ہیں حالانکہ تنہائی وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو پہچانتا ہے۔ اگر آپ روز کے چند منٹ خود کے ساتھ گزارنے کی عادت ڈال لیں تو شخصیت اندر سے مضبوط ہو جاتی ہے۔ آپ اپنی سوچ کو بہتر سنتے ہیں، اپنی خواہشات کو سمجھتے ہیں اور اپنے اندر کے شور کو پرسکون کر لیتے ہیں۔ تنہائی انسان کو حقیقت دکھاتی ہے اور اس حقیقت سے آگاہ ہونا شخصیت کی بڑی تبدیلی ہے۔

بولنے سے زیادہ کرنے کی عادت

دنیا میں ہر شخص باتیں کر لیتا ہے مگر وہ لوگ الگ نظر آتے ہیں جو کم بولتے ہیں اور زیادہ کرتے ہیں۔ یہ عادت شخصیت کو خودبخود مضبوط، پراثر اور باوقار بنا دیتی ہے۔ جب آپ عمل کو ترجیح دیتے ہیں تو وقت کے ساتھ لوگ آپ کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیتے ہیں۔ کامیاب لوگ اسی لیے خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ کام ان کے عمل میں نظر آتا ہے۔

چھوٹی کامیابیوں کا جشن منانا

اگر آپ صرف بڑی کامیابیوں کا انتظار کریں گے تو زندگی بوجھ لگنے لگے گی۔ لیکن اگر آپ چھوٹی کامیابیوں پر بھی خوشی محسوس کرنا سیکھ لیں تو شخصیت میں اعتماد اور توانائی بڑھنے لگتی ہے۔ یہ کامیابی کوئی ایک صفحہ لکھ لینا ہو سکتا ہے، کوئی پرانا کام مکمل کر لینا، یا کسی خوف کو تھوڑا سا کم کرنا۔ یہ سب چھوٹی کامیابیاں مجموعی طور پر انسان کو بڑے مقام تک پہنچاتی ہیں۔

مدحلقت بڑھانے کی عادت

لوگوں کی مدد کرنا شخصیت کو اندر سے نرم اور مضبوط بناتا ہے۔ یہ مدد کوئی رقم نہیں ہوتی۔ یہ ایک اچھا مشورہ بھی ہو سکتا ہے، کسی کا سامان اٹھا دینے کا مختصر سا عمل، یا کسی کو وقت دے دینا۔ یہ عادت انسان کے اندر وہ شفقت پیدا کرتی ہے جو شخصیت کو خوبصورت بناتی ہے۔ لوگ ایسے شخص کے آس پاس رہ کر خوش ہوتے ہیں اور یہی چیز شخصیت کو مزید نکھارتی ہے۔

خود کو بہتر بنانے کی خواہش

شخصیت تب بدلتی ہے جب انسان یہ مان لے کہ میں بہتر ہو سکتا ہوں۔ یہ مان لینا ہی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ خواہش انسان کے قدموں کو نئی سمت دیتی ہے۔ باقی سب عادتیں اسی کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں۔ جب آپ مسلسل بہتر ہونے کی خواہش رکھتے ہیں تو زندہ محسوس کرتے ہیں، سیکھتے ہیں، بدلتے ہیں اور خود کو نئے روپ میں دیکھتے ہیں۔

آخر میں ایک اہم نکتہ

شخصیت ایک دن میں نہیں بدلتی۔ لیکن روزانہ کا ایک چھوٹا قدم بھی اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ چند مہینوں میں آپ اپنے اندر وہ تبدیلی دیکھتے ہیں جو سالوں سے چاہ رہے تھے۔ یہ عادتیں مشکل نہیں، صرف چند منٹ مانگتی ہیں۔ لیکن ان کا اثر پوری زندگی پر ہوتا ہے۔

آپ جس زندگی کا خواب دیکھتے ہیں وہ انہی چھوٹے قدموں کے پیچھے ہے۔ جو شخص اپنے اندر کے سفر پر نکل جائے وہ کبھی ویسا نہیں رہتا جیسا پہلے تھا۔

No comments:

Post a Comment