ذہنی دباؤ سے نجات کے آسان اور مؤثر طریقے


آج کی تیز رفتار زندگی میں ذہنی دباؤ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی وجہ سے ذہنی پریشانی، بےچینی یا تھکن کا شکار ہے۔ یہ دباؤ کبھی کام کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے، کبھی گھر کے مسائل کی وجہ سے، کبھی معاشی حالات کی وجہ سے اور کبھی صرف اس لیے کہ انسان خود کو سنبھالنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔ ذہنی دباؤ کو اگر وقت پر قابو میں نہ لایا جائے تو یہ نہ صرف ذہنی طور پر کمزور کرتا ہے بلکہ جسمانی بیماریوں کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے سادہ، قابل عمل اور مؤثر طریقے جانیں جن سے دباؤ کم ہو اور ذہن سکون محسوس کرے۔

خود کو لمحہ بھر کے لیے روکنا

روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں اکثر لوگ خود کو ایک لمحے کے لیے بھی رکنے نہیں دیتے۔ یہ رک جانا بظاہر معمولی سا عمل ہے مگر ذہنی سکون کے لیے بے حد ضروری ہوتا ہے۔ جب بھی دباؤ بڑھنے لگے تو اپنی مصروفیت کو چند منٹ کے لیے روکیں، آنکھیں بند کریں اور گہری سانس لیں۔ یہ چھوٹا سا عمل دماغ کے اندر موجود تناؤ کو فوری طور پر کم کرتا ہے۔ گہری سانس لینے سے جسم زیادہ آکسیجن جذب کرتا ہے اور  ذہن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔ نماز اس کا سب سے بہترین عمل ہے۔ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی میں یہی سب سے بڑا سبق ہے۔

مثبت سوچ کا انتخاب

منفی خیالات ذہنی دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ ایک منفی سوچ دوسرے منفی خیالات کو اپنے ساتھ کھینچ لاتی ہے، جس سے ذہن مزید الجھ جاتا ہے۔ مثبت سوچ کا انتخاب کبھی بھی خودبخود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک شعوری فیصلہ ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی مشکل سامنے آئے، فوراً خود کو یاد دلائیں کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے اور وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جاتا ہے۔ مثبت سوچ ذہن کو طاقت دیتی ہے اور دباؤ کا مقابلہ آسان بنا دیتی ہے۔

فطرت کے قریب رہنا

فطرت انسان کے لیے سب سے بہترین علاج ہے۔ سبزہ، ہوا، آسمان، پھول، پرندے اور پانی جیسے قدرتی عناصر ذہن کو سکون دیتے ہیں۔ چند منٹ کے لیے پارک میں جا کر بیٹھنا، ہلکی سی چہل قدمی کرنا یا صرف کھلی ہوا میں سانس لینا بھی ذہنی دباؤ کم کرتا ہے۔ جو لوگ روزانہ کچھ وقت فطرت کے قریب گزارتے ہیں وہ ذہنی طور پر زیادہ مضبوط، مثبت اور پُرسکون رہتے ہیں۔ اسی لئے صبح کی سیر کو سب سے زیادہ موئثر مانا جاتا ہے۔

مناسب نیند کی اہمیت

نیند کی کمی ذہنی دباؤ کو مزید بڑھاتی ہے۔ جب دماغ کو آرام نہیں ملتا تو وہ معمولی باتوں پر بھی زیادہ ردعمل دیکھاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی نیند کے شیڈول کو درست کریں۔ سونے اور جاگنے کا ایک ہی وقت مقرر کریں اور کوشش کریں کہ سونے سے پہلے موبائل یا ٹی وی کا استعمال کم کریں۔ مناسب نیند مسلسل ذہنی توانائی بحال رکھتی ہے اور دباؤ سے نمٹنے کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اپنی بات کہنا

اکثر لوگ اپنے دل کی بات کسی کو نہیں بتاتے، جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ بڑھتا رہتا ہے۔ اپنے اعتماد کے شخص سے بات کرنا دباؤ کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر کسی سے بات نہ ہو سکے تو اپنی سوچیں کسی ڈائری میں لکھ لیں۔ لکھنے سے ذہن میں موجود بوجھ کم ہوتا ہے اور انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔ یہ طریقہ سائنسی طور پر بھی ثابت شدہ ہے کہ اظہار جذبات ذہنی صحت کو بہتر کرتا ہے۔ یہاں پر دوست آجاتے ہیں جن سے انسان کھل کر بات کرکے اپنا ذہنی بوجھ حلقہ کرتاہے۔ اور اسی چیز کے لئے کلب یا ٹھڑے کی بنیاد پڑی یہاں پر دوست احباب اکٹھے ہوکر دن بھر کی مصروفیت آپس میں شیئر کرتے ہیں اور اپنا ذہنی دباوٗ کم کرتے۔

جسمانی سرگرمی

جسم کی حرکت ذہن کے لیے ایک طرح کی دوا ہے۔ ہلکی پھلکی واک، چند منٹ کی اسٹریچنگ، یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی دماغ میں مثبت کیمیکلز پیدا کرتی ہے جنہیں اینڈورفن کہا جاتا ہے۔ یہ کیمیکلز ذہنی دباؤ کم کرتے ہیں اور موڈ بہتر کرتے ہیں۔ روزانہ صرف پندرہ سے بیس منٹ تک جسم کو حرکت دینا ذہنی صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔، جیسے کے اوپر لکھا ہے صبح کی سیر اس کا سب بہتر موقع ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا سے وقفہ

سوشل میڈیا بظاہر تفریح دیتا ہے مگر اکثر یہ ذہنی دباؤ کی وجہ بھی بن جاتا ہے۔ دوسروں کی بہتر زندگی دیکھ کر انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے اور دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی کبھار سوشل میڈیا سے مکمل وقفہ لینا بھی ضروری ہے۔ چند دن یا چند گھنٹے کا بھرپور وقفہ ذہن کو تازہ کر دیتا ہے اور انسان خود کو زیادہ پرسکون محسوس کرتا ہے۔

چھوٹی کامیابیوں کا جشن

بہت سے لوگ بڑی کامیابی کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور چھوٹے کاموں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ حالانکہ چھوٹی کامیابی ذہن کو خوشی دیتی ہیں اور دباؤ کم کرتی ہیں۔ روزمرہ کے چھوٹے بڑے کام جیسے گھر کی صفائی مکمل کرنا، ایک اہم کال کر لینا یا کوئی مشکل فیصلہ کر لینا بھی قابل تعریف ہوتا ہے۔ اپنی ان چھوٹی کامیابیوں کو قبول کریں اور ان پر خوشی محسوس کریں، ذہنی سکون بڑھتا جائے گا۔

نتیجہ

ذہنی دباؤ سے نجات کسی مشکل سائنس کا نام نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف چند سادہ تبدیلیاں کرنا ضروری ہیں۔ وقت پر رک جانا، مثبت سوچ رکھنا، فطرت کے قریب رہنا، مناسب نیند لینا، اپنی بات کہنا، ورزش کرنا، سوشل میڈیا سے وقفہ لینا اور کامیابیوں کی قدر کرنا ایسے طریقے ہیں جو ہر انسان آسانی سے اپنا سکتا ہے۔ زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں مگر ذہن مضبوط ہو تو ہر مشکل آسان لگنے لگتی ہے۔ اپنے ذہنی سکون کو ترجیح دیں، کیونکہ پرسکون ذہن ہی خوشحال زندگی کی بنیاد ہے۔

اگر آپ ہماری بات سے اتفاق کرتے ہیں تو نیچے دیئے گئے کومینٹ بوکس میں اپنے کومینٹس ضرور شیئر کریں۔

No comments:

Post a Comment