وہ لوگ جنہوں نے صفر سے شروع کیا
عالمی لیجنڈز کی ابتدائی جدوجہد
دنیا میں ہر شخص کامیابی چاہتا ہے، مگر ہر شخص اسے حاصل نہیں کر پاتا۔ کچھ لوگ قسمت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، کچھ ماحول کو، اور کچھ حالات کو۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان سب سے ہٹ کر ثابت کرتے ہیں کہ آغاز چاہے جتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو، منزل بڑی ہوسکتی ہے۔ دنیا کے بڑے ناموں نے کبھی اتنی آسانی سے بڑے سفر شروع نہیں کیئے۔ یہ وہی لوگ تھے جو گلیوں میں پھرتے تھے، مسترد ہوتے تھے، ہنسی کا نشانہ بنتے تھے، مگر اپنے خوابوں پر قائم رہے۔ آج ہم انہی لوگوں کی بات کر رہے ہیں جنہوں نے صفر سے سفر شروع کیا اور اپنی محنت سے دنیا بدل ڈالی۔
صفر سے آغاز کی اصل حقیقت
صفر ہونا کوئی کمزوری نہیں، بلکہ یہ اصل طاقت ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے انسان اپنی زندگی کو نئے انداز میں تشکیل دے سکتا ہے۔ صفر پر انسان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا، اس لیے وہ بے خوف ہوکر آگے بڑھ سکتا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ کامیاب شخصیات کا آغاز ہی مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ کچھ کے پاس پیسے نہیں ہوتے، کچھ کے پاس تعلیم نہیں، کچھ کے پاس مواقع نہیں، لیکن ان کے پاس کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ ہے آگے بڑھنے کی ضد۔ یہی ضد انہیں عام انسانوں سے مختلف بناتی ہے۔
جیک ما کی ابتدائی جدوجہد
جیک ما کی زندگی ایک عام انسان کی کہانی نہیں بلکہ مسلسل ٹھوکروں کی کہانی ہے۔ وہ ایک ایسا لڑکا تھا سے دسویں بار بھی امتحان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جسے تیس جگہوں سے نوکری سے انکار ملا۔ یہاں تک کہ کے ایف سی میں بھی جب پچیس لوگ منتخب ہوئے تو اکیلا شخص جسے باہر کر دیا گیا وہ جیک ما تھا۔
لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔ وہ سڑکوں پر غیر ملکیوں کے پیچھے سائیکل چلانے والا لڑکا تھا۔ صرف زبان سیکھنے کا شوق اس کی زندگی میں امید کا چراغ بن گیا۔ جب انٹرنیٹ کا نام بھی عام لوگوں نے نہیں سنا تھا، جیک ما نے اس سے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں، بغیر تجربے کے، بغیر پیسوں کے، اس نے علی بابا کی بنیاد رکھی۔
لوگ ہنسے، مذاق اڑایا، دماغی توازن پر شک کیا۔ مگر آج وہی شخص دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنیوں میں سے ایک کا بانی ہے۔ یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ صفر صرف شروعات ہے، انجام نہیں۔
اسٹیو جابز کا مشکل سفر
اسٹیو جابز وہ شخص تھا جس نے اپنے گراج سے ایک سلطنت کھڑی کی۔ وہ بچپن ہی سے ایک ایسی دنیا میں رہ رہا تھا جہاں کوئی چیز یقینی نہیں تھی۔ اسے اس کے اصل والدین نے چھوڑ دیا تھا۔ وہ ایک عام خاندان میں پلا، اور ہمیشہ خود کو کچھ مختلف محسوس کرتا رہا۔ جب اس نے اپنے دوست ووزنیاک کے ساتھ مل کر ایپل شروع کیا تو اس کا مقصد دنیا بدلنا نہیں تھا، بلکہ کچھ نیا کرنا تھا۔ مگر زندگی نے اسے وہ راستہ دکھایا جس کی اس نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔ کچھ سالوں بعد، ایپل نے خود اسے کمپنی سے نکال دیا۔ ایک ایسا صدمہ جو کسی بھی انسان کو تباہ کر سکتا تھا۔ لیکن جابز نے خود کو ختم ہونے نہیں دیا۔ اس نے پیکسر بنایا، نئی ٹیکنالوجیز پر کام کیا، اور آخرکار دوبارہ ایپل میں واپس آیا۔ پھر اس نے وہ انقلاب برپا کیا جس نے موبائل، کمپیوٹنگ، موسیقی اور پورے ڈیجیٹل دور کو بدل دیا۔ آئی فون اور آئی پیڈ نے دنیا کو وہ شکل دی جو آج ہم دیکھتے ہیں۔
بل گیٹس کی غیر معمولی شروعات
بل گیٹس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ امیر نہیں تھا جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ وہ ایک سادہ گھرانے میں پیدا ہوا لیکن اس کا ذہن کسی کمپیوٹر کی طرح تیز تھا۔ جب دنیا کمپیوٹر کو سمجھ رہی تھی، گیٹس اور پال ایلن نے گیراج میں بیٹھ کر کوڈ لکھے تھے۔ انہیں نہ کوئی بڑا دفتر ملا، نہ سرمایہ، مگر ان کے خواب بڑے تھے۔ ان دونوں نے ایسا سسٹم بنایا جس نے کمپیوٹرز کو عام انسان کی زندگی کا حصہ بنا دیا۔ وہ کمپنی جسے انہوں نے ایک چھوٹی سی جگہ میں شروع کیا تھا، آج دنیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئر کمپنی ہے۔
جیف بیزوس کا چھوٹا مگر بڑی سوچ والا آغاز
آج امیزون دنیا کی سب سے بڑی آن لائن مارکیٹ ہے، مگر اس کی ابتدا بھی ایک گیراج میں ہوئی۔ جیف بیزوس پورا دن کتابیں پیک کرتا تھا، رات کو ویب سائٹ کو ٹھیک کرتا تھا، اور صبح پھر نیا دن شروع ہو جاتا تھا۔ اس کے پاس نہ ٹیم تھی، نہ سرمایہ، نہ ہی کوئی تجربہ۔ لوگ کہتے تھے کہ آن لائن خریداری کبھی بڑی چیز نہیں بنے گی۔ مگر بیزوس نے وہ سوچ دیکھی تھی جو کسی اور نے نہیں دیکھی تھی۔ اس نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ آج امیزون کا نام دنیا کی ہر زبان میں لیا جاتا ہے۔
اوپرا ونفری کی زندگی کا سخت ترین آغاز
اوپرا ونفری آج میڈیا کی ملکہ کہلاتی ہے، مگر اس کی زندگی کا آغاز دردناک تھا۔ غربت، ظلم، ناانصافی اور معاشرتی بے حسی نے اس کی زندگی کو گھیر رکھا تھا۔ لیکن اس نے اپنے حالات کو اپنی طاقت بنا لیا۔ پہلی بار جب اسے ٹی وی پروگرام دیا گیا تو خود اسے بھی یقین نہیں تھا کہ یہی اس کی پہچان بنے گا۔ اوپرا نے اپنی آواز کو لوگوں کے دلوں کی آواز بنا دیا۔ آج وہ نہ صرف میڈیا میں کامیاب ہے بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔
ایلون مسک کی ناکامیوں بھری ابتدا
ایلون مسک کا نام آج جدت، ٹیکنالوجی اور بے خوفی کی پہچان ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے زندگی میں اتنی ناکامیاں دیکھی ہیں جتنی بہت سے لوگ برداشت بھی نہ کر سکیں۔ اس کے پہلے تین راکٹ تباہ ہوئے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ دیوانہ ہے۔ اسے ٹیسلا سے بھی نکالنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس کے اندر ایک چیز تھی۔ ایک ایسی آگ جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ چوتھا راکٹ کامیاب ہوا اور وہی لمحہ تھا جب ایسپس ایکس نے تاریخ میں قدم رکھا۔
ہارلینڈ سینڈرز کی دیر سے کامیابی
ہارلینڈ سینڈرز کی زندگی واقعی منفرد ہے۔ وہ کئی ناکام کاروبار کر چکے تھے اور ملازمتیں کرتے رہ گئے۔ ان کی اصل کامیابی 60 سال کی عمر کے بعد آئی۔ سینڈرز نے اپنا فرائیڈ چکن کا نسخہ لے کر چھوٹے سے ڈائنر سے کام شروع کیا اور مسلسل لوگوں کے پاس جا کر اپنا نسخہ بیچا۔ لوگ ہنستے تھے، مذاق اڑاتے تھے، لیکن سینڈرز نے ہمت نہیں ہاری۔ آخرکار کے ایف سی ایک عالمی برانڈ بن گیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ عمر یا حالات کبھی بھی حوصلے کو نہیں روک سکتے، اور آغاز چھوٹا ہو یا دیر سے ہو، مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وہ خصوصیات جو سب میں مشترک تھیں
ان سب بڑی شخصیات کے درمیان کچھ مشترکہ باتیں تھیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں
صفر پر کھڑے لوگوں کے لیے عملی رہنمائی
اگر آپ بھی زندگی میں صفر پر کھڑے ہیں تو گھبرائیں نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کے بڑے بڑے لوگوں نے اپنی کہانی لکھی۔ آپ کے پاس شاید سرمایہ نہیں ہوگا، شاید تعلقات نہیں، شاید حالات سخت ہوں، شاید لوگ مذاق اڑائیں، لیکن جب تک آپ کا ارادہ مضبوط ہے، یہ سب کچھ بے معنی ہے۔ ہر کامیاب شخص کی کہانی یہ کہتی ہے کہ منزل اُنہی کو ملتی ہے جو جمود کو توڑنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ خواب تب تک زندہ رہتے ہیں جب تک انسان ان کا پیچھا چھوڑ نہ دے۔
نتیجہ
دنیا کے بڑے لوگ نہ خاص پیدا ہوئے، نہ خاص حالات میں۔ سب عام تھے، لیکن ان کی سوچ غیر معمولی تھی۔ انہوں نے صفر سے آغاز کیا، مگر اپنے سفر کو وہیں ختم نہ ہونے دیا۔ اگرآج آپ صفر پر ہیں تو سب سے اچھی جگہ پر ہیں، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے کون سی سمت جانا ہے، یہ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ دنیا کے ہر لیجنڈ نے اسی مقام سے آغاز کیا اور ثابت کیا کہ انسان کا اصل سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ خود کو شکست نہ دینے دے۔
No comments:
Post a Comment