زندگی ایک سفر ہے، مگر یہ سفر اُس وقت بامعنی بنتا ہے جب انسان کے پاس کوئی سمت موجود ہو۔ اگر راستہ طویل ہو، مشکلات زیادہ ہوں لیکن انسان کو معلوم ہو کہ جانا کہاں ہے تو سفر آسان محسوس ہوجاتا ہے۔ یہی مثال انسانی زندگی کی بھی ہے۔ مقصد کے بغیر انسان وقت گزار تو لیتا ہے مگر زندگی کبھی مکمل محسوس نہیں ہوتی۔
مقصد کیوں ضروری ہے
زندگی میں مقصد انسان کو وہ توانائی دیتا ہے جو عام حالات میں ملنی مشکل ہوتی ہے۔ جب انسان کو پتہ ہو کہ اس کا اصل ہدف کیا ہے تو وہ روزمرہ کے دباؤ، مصروفیات اور مشکلات سے نہیں گھبراتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قدم اسے اس مقام کے قریب کر رہا ہے جس کا وہ خواب دیکھتا ہے۔ مقصد انسان کو ایک ایسی باطنی طاقت فراہم کرتا ہے جو نہ صرف ذہنی طاقت بڑھاتی ہے بلکہ جذباتی استحکام بھی پیدا کرتی ہے۔ مقصد کے بغیر جینے والا شخص اکثر الجھن کا شکار رہتا ہے، اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ وقت ہاتھ سے پھسل رہا ہے۔
زندگی کے راستوں میں بے سمتی کا احساس
بہت سے لوگ اپنی زندگی میں ایک مقام پر آ کر رک جاتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ چل تو رہے ہیں مگر کہیں پہنچ نہیں رہے۔ یہ بے سمتی اکثر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان نے اپنے لیے کوئی ہدف، کوئی وِژن یا کوئی سمت مقرر نہیں کی ہوتی۔ ایسے افراد عام طور پر تھکن محسوس کرتے ہیں، ذہنی پریشانی کا شکار رہتے ہیں اور اپنے فیصلوں پر اعتماد کھو دیتے ہیں۔ اس بے سمتی کا حل صرف ایک ہی ہے کہ انسان اپنے اندر جھانکے اور اپنے مقصد کو پہچانے۔
مقصد انسان کو واضح فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے
زندگی میں فیصلے اُس وقت آسان ہوتے ہیں جب انسان کو پتہ ہو کہ اس نے آخر پہنچنا کہاں ہے۔ مقصد ہونے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان چھوٹے چھوٹے فیصلوں کو بھی اسی بنیاد پر کرتا ہے کہ آیا یہ فیصلہ اسے اس کے ہدف کے قریب لے جا رہا ہے یا دور کر رہا ہے۔ یہی وضاحت اُس کو زندگی میں غلط سمت میں جانے سے بچاتی ہے۔ مقصد والا شخص وقت کا ضیاع کم کرتا ہے، اور توانائی اُن چیزوں میں لگاتا ہے جو اس کے لیے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔
مقصد انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے
جس شخص کا کوئی مقصد ہوتا ہے، اس کی شخصیت میں ایک خاص اعتماد ہوتا ہے۔ اس کے انداز میں ٹھہراؤ ہوتا ہے، بات کرنے میں اعتماد جھلکتا ہے، اور اس کی موجودگی دوسروں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے راستے کے بارے میں واضح ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اسے کون سی ذمہ داری دے رہی ہے اور اسے کن اصولوں پر چلنا ہے۔ یہی مقصد پسندی انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے۔
مقصد تلاش کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے
مقصد پیدا نہیں ہوتا بلکہ تلاش کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت، دلچسپیوں، تجربات اور حالات کو دیکھ کر خود بخود اپنے مقصد تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ وہ کئی سال محض اس لیے بھٹکتے رہتے ہیں کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس کام کے لیے بنے ہیں۔ مقصد تلاش کرنے کے لیے انسان کو خود کو سمجھنا پڑتا ہے، اپنے ماضی کا جائزہ لینا پڑتا ہے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں جا کر یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر کیا چاہتا ہے۔
اپنی دلچسپیوں کا جائزہ لینا
زیادہ تر حالات میں انسان کا مقصد اس کی خواہشات یا دلچسپیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ کام جو انسان دل سے کرنا چاہتا ہو، وہی اس کا اصل راستہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے کام میں خوشی محسوس کرتے ہیں جو دوسروں کو عام سا لگتا ہے، تو ممکن ہے کہ وہی کام آپ کو مقصد کے دروازے تک لے جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی دلچسپیوں کی فہرست بنائے، اُن چیزوں کو جانے جو اسے خوش کرتی ہیں اور اُن کاموں کو پہچانے جو اسے تھکا دیتے ہیں۔ یہی پہچان مقصد کے سفر کا پہلا قدم ہوتی ہے۔
اپنی صلاحیتوں کو جاننا
دلچسپی ایک پہلو ہے لیکن صلاحیت دوسرا۔ بہت ممکن ہے کہ انسان کسی کام میں دلچسپی رکھتا ہو مگر اس میں مہارت نہ ہو۔ مقصد ہمیشہ دلچسپی اور صلاحیت کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مہارت رکھتا ہے اور اس کام سے حقیقی خوشی بھی محسوس کرتا ہے تو یہی اس کی اصل پہچان ہو سکتی ہے۔ انسان اپنی مہارتوں کو تب ہی پہچان سکتا ہے جب وہ خود کا جائزہ لینے کی عادت ڈالے اور اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھے۔
ماضی کے تجربات مقصد کی نشاندہی کرتے ہیں
ہر انسان کی زندگی کئی تجربات سے بھری ہوتی ہے۔ بعض تجربات شدید درد دیتے ہیں جبکہ کچھ انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر انسان کا مقصد انہی تجربات سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ انسان جو مشکلات سے لڑ کر نکل آیا ہو، وہ دوسروں کو بھی امید دینا چاہتا ہے۔ وہ شخص جس نے غربت، بیماری یا مشکلات دیکھی ہوں، اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ماضی کو بوجھ کے طور پر نہ دیکھے بلکہ راہ نما کے طور پر دیکھے۔
خاموشی کے لمحے مقصد تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں
روزمرہ کی دوڑ دھوپ میں انسان کو وہ سکون میسر نہیں آتا جس کی ضرورت اندرونی آواز کو سننے کے لیے ہوتی ہے۔ مقصد ہمیشہ شور میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تب ظاہر ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو بیرونی دنیا سے کچھ دیر کے لیے الگ کر دے۔ تنہائی کے چھوٹے چھوٹے لمحات، چہل قدمی، لکھنے کی عادت یا مراقبہ جیسی چیزیں انسان کی سوچ کو واضح کرتی ہیں۔ اسی وضاحت سے مقصد کے راستے کھلتے ہیں۔
زندگی کے بڑے سوالات پوچھنا
ان سوالات کے جواب انسان کو بتاتے ہیں کہ وہ کس سمت میں جانا چاہتا ہے۔ یہ سوال ہی مقصد کی بنیاد رکھتے ہیں اور انسان کو اس راستے تک پہنچاتے ہیں جو اس کے لیے فطری طور پر موزوں ہوتا ہے۔
دوسروں کے لیے فائدہ مند ہونا
دنیا کے اکثر کامیاب لوگ اپنی کامیابی کا سہرا دوسروں کی خدمت کو دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انسان صرف اپنے لیے جیتا ہے تو زندگی بہت چھوٹی محسوس ہوتی ہے، لیکن جب وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا سوچتا ہے تو اس کا مقصد خود بخود واضح ہو جاتا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، ان کی زندگیوں میں بہتری لائے، وہ نہ صرف دوسروں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے بلکہ اپنے اندر بھی سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔ اس طرح مقصد صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی بن جاتا ہے۔
چھوٹے قدموں سے آغاز
مقصد تلاش کرنے کے بعد اگلا مرحلہ اس کی طرف عملی قدم بڑھانا ہے۔ انسان بڑی منزل کا سوچ کر اکثر ڈر جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑی منزلیں ہمیشہ چھوٹے قدموں سے شروع ہوتی ہیں۔ اگر کسی نے لکھاری بننے کا مقصد بنایا ہے تو اسے روز تھوڑا تھوڑا لکھنا چاہیے۔ اگر کسی کا مقصد صحت مند زندگی ہے تو اسے روز چند منٹ کی ورزش سے سفر شروع کرنا چاہیے۔ چھوٹے قدم ذہنی دباؤ کم کرتے ہیں اور انسان کو مستقل آگے بڑھنے کی عادت دیتے ہیں۔
مستقل مزاجی مقصد کی کامیابی کی بنیاد ہے
مقصد آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔ راستے میں مشکلات، ناکامیاں اور رکاوٹیں لازمی آتی ہیں۔ مقصد کے ساتھ کھڑا رہنے والا شخص وہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں بھی حوصلہ نہیں ہارتا۔ وہ اپنے اندر یہ یقین رکھتا ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لیے ثابت قدمی ضروری ہے۔ یہی مستقل مزاجی انسان کو عام لوگوں سے الگ کرتی ہے۔
اپنی زندگی کو با مقصد بنانے کا فیصلہ
زندگی میں مقصد تلاش کرنا ایک بار کا عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ جیسے جیسے انسان آگے بڑھتا ہے، اس کی سوچ بدلتی ہے، اس کے حالات تبدیل ہوتے ہیں اور اس کے مقصد میں بھی وسعت آ جاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان خود کو روکنے کے بجائے مسلسل دریافت کرتا رہے۔ جو شخص اپنی زندگی کو با مقصد بنانے کا فیصلہ کر لے، وہ کہیں نہ کہیں ضرور پہنچ جاتا ہے۔
نتیجہ
زندگی اسی وقت روشن ہوتی ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ اس نے کس سمت میں جانا ہے۔ مقصد انسان کی زندگی کو نہ صرف معنی دیتا ہے بلکہ اس کے وجود میں تازگی، قوت اور امید بھی پیدا کرتا ہے۔ مقصد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی دلچسپیوں، صلاحیتوں اور تجربات کا جائزہ لے اور خود کے اندر چھپے ہوئے اُس راستے کو پہچانے جو اسے خوشی اور کامیابی کی طرف لے جائے۔ مقصد تلاش کرنا ایک سفر ہے اور یہ سفر ہی انسان کو مکمل کرتا ہے۔
No comments:
Post a Comment