تھکاوٹ نہیں، سوچ تھک جاتی ہے
ہم اصل میں کیوں ٹوٹنے لگتے ہیں؟
زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان خود سے کہتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے، مگر اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جسم نہیں بلکہ سوچ ہار رہی ہوتی ہے، کیونکہ جسم تو معمولی آرام، ایک نیند یا ایک وقفے کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے مگر سوچ وہ بوجھ اٹھا رہی ہوتی ہے جس کا وزن نظر نہیں آتا، دن بھر کی ذمہ داریاں، ادھورے فیصلے، آنے والے کل کی فکر، گزرے ہوئے کل کا پچھتاوا، لوگوں کی توقعات اور اپنی ہی امیدوں کا دباؤ مل کر دماغ میں ایسا شور پیدا کر دیتے ہیں کہ انسان خاموش ہو کر بھی تھکا ہوا محسوس کرتا ہے، یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ وہ کمزور ہو رہا ہے حالانکہ وہ صرف ذہنی طور پر بوجھل ہو چکا ہوتا ہے۔
سوچ کی تھکن آہستہ آہستہ کیسے بڑھتی ہے؟
سوچ ایک دم سے نہیں تھکتی، یہ تھکن روز تھوڑی تھوڑی جمع ہوتی ہے، کبھی کسی کا جملہ دل پر لگ جاتا ہے، کبھی کسی کام کی ناقدری اندر خالی پن چھوڑ جاتی ہے، کبھی کوشش کے باوجود نتیجہ نہ ملنے کا دکھ سوچ کو تھوڑا سا مزید بوجھل کر دیتا ہے، ہم ہر دن خود کو سمجھاتے ہیں کہ بس ایک دن اور، بس ایک قدم اور، بس یہ مسئلہ حل ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر مسئلے ختم نہیں ہوتے اور سوچ کا بوجھ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن انسان کو لگتا ہے کہ اس میں کچھ کرنے کی طاقت ہی نہیں رہی۔
خاموش تھکاوٹ جو کسی کو دکھائی نہیں دیتی
یہ وہ تھکاوٹ ہوتی ہے جس کا کوئی زخم نظر نہیں آتا، کوئی بخار نہیں ہوتا، کوئی رپورٹ خراب نہیں آتی، مگر انسان اندر سے بکھر رہا ہوتا ہے، وہ ہنس رہا ہوتا ہے مگر دل نہیں ہنس رہا ہوتا، باتیں کر رہا ہوتا ہے مگر دل کہیں اور ہوتا ہے، لوگ اسے سست، لاپروا یا منفی سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ اصل میں وہ صرف ذہنی طور پر تھکا ہوا ہوتا ہے، یہ خاموش تھکاوٹ سب سے خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں انسان خود بھی اپنی حالت کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتا۔
ہم خود پر اتنا دباؤ کیوں ڈال لیتے ہیں؟
ہم نے زندگی کو ایک مسلسل دوڑ بنا لیا ہے جہاں رکنا جرم سمجھا جاتا ہے، ہر کوئی کچھ نہ کچھ ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، کسی کو خاندان کے لیے، کسی کو معاشرے کے لیے، کسی کو خود اپنے لیے، ہم اپنی رفتار، اپنی حد اور اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم یہ ماننے سے گھبراتے ہیں کہ ہم تھک گئے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ کمزوری کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ سب سے بڑی ایمانداری ہوتی ہے۔
سوچ کی تھکن اور رشتوں میں فاصلے
جب سوچ تھک جاتی ہے تو انسان بات کرنا کم کر دیتا ہے، وضاحت دینے سے بچنے لگتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑچڑا ہو جاتا ہے، اور یہی رویہ رشتوں میں غلط فہمیاں پیدا کر دیتا ہے، سامنے والا سمجھتا ہے کہ شاید محبت کم ہو گئی ہے یا دلچسپی ختم ہو گئی ہے، مگر اصل میں انسان کے پاس ذہنی توانائی ہی نہیں ہوتی کہ وہ ہر بات کو سنبھال سکے، اگر اس مرحلے پر رشتے سمجھداری دکھائیں تو بہت ساری ٹوٹ پھوٹ رک سکتی ہے۔
ہر وقت مضبوط دکھنے کی اداکاری
ہمیں شروع سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ مضبوط بنو، کمزوری مت دکھاؤ، روؤ مت، ہارو مت، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہر وقت مضبوط رہنے کی کوشش انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، جب انسان اپنے خوف، اپنے سوال اور اپنی تھکن کو دبا کر رکھتا ہے تو وہ سب چیزیں سوچ میں جمع ہو جاتی ہیں، اور ایک دن سوچ اتنی تھک جاتی ہے کہ انسان کو خود اپنی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔
سوچ کو آرام دینے کا مطلب بھاگنا نہیں
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سوچ کو آرام دینا ذمہ داریوں سے بھاگنے کے مترادف ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، سوچ کو آرام دینا خود کو سنبھالنے کا نام ہے، یہ مان لینے کا نام ہے کہ ہر وقت لڑتے رہنا ضروری نہیں، کبھی کبھی رک جانا، خاموش ہو جانا، اور خود کو وقت دینا بھی زندگی کا حصہ ہوتا ہے، یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسان کو دوبارہ کھڑا ہونے کی طاقت دیتے ہیں۔
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں
ہم ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش میں اپنی سوچ کو تھکا دیتے ہیں، ہر تنقید کا دفاع، ہر غلط فہمی کی وضاحت اور ہر الزام کی صفائی دینا ضروری نہیں ہوتا، بعض باتیں وقت پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ ہر غیر ضروری وضاحت سوچ کی توانائی کھا جاتی ہے، جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہو سکتی ہے تو سوچ ہلکی لگنے لگتی ہے۔
زندگی کو ہر وقت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں
زندگی کوئی عدالت نہیں جہاں ہر دن اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہو، نہ ہی یہ کوئی مقابلہ ہے جہاں ہر وقت آگے رہنا ضروری ہو، بعض اوقات پیچھے رہ جانا، سست ہو جانا، اور رک جانا بھی زندگی کا حصہ ہوتا ہے، جب انسان یہ حقیقت قبول کر لیتا ہے تو سوچ کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے، اور زندگی دوبارہ قابلِ برداشت محسوس ہونے لگتی ہے۔
سوچ کی تھکن اور خود سے دوری
سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب انسان خود سے ہی دور ہو جاتا ہے، اسے یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ وہ کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں، وہ دوسروں کی توقعات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اپنی آواز سننا بھول جاتا ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سوچ سب سے زیادہ تھکی ہوئی ہوتی ہے، اور انسان کو سب سے زیادہ خود سے جڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سوچ کو ہلکا کرنے کے چھوٹے فیصلے
سوچ کو ہلکا کرنے کے لیے بڑے فیصلوں کی نہیں بلکہ چھوٹے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے، غیر ضروری بحث سے بچنا، اپنی حد مقرر کرنا، ہر وقت دستیاب نہ رہنا، اور کبھی کبھی خود کو ترجیح دینا وہ فیصلے ہیں جو آہستہ آہستہ ذہنی سکون واپس لاتے ہیں، یہ وہ عادتیں ہیں جو شور سے بھری زندگی میں خاموشی کے لمحے پیدا کرتی ہیں۔
جب سوچ سانس لیتی ہے تو زندگی بدلتی ہے
جس دن انسان اپنی سوچ کو آرام دینے کی اجازت دے دیتا ہے، اسی دن زندگی کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے، وہی معمولی لمحے دوبارہ خوشی دینے لگتے ہیں، دل دوبارہ جینے کو مان جاتا ہے، اور انسان خود کو کمزور نہیں بلکہ زندہ محسوس کرنے لگتا ہے، کیونکہ اصل مسئلہ کبھی تھکاوٹ نہیں ہوتا، مسئلہ ہمیشہ تھکی ہوئی سوچ ہوتی ہے۔
نتیجہ جو کسی سبق جیسا نہیں
یہ کوئی نصیحت نہیں، نہ کوئی سبق، بس ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ ہم سب کبھی نہ کبھی سوچ کی تھکن سے گزرتے ہیں، اور اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں، اصل سمجھداری یہ ہے کہ ہم وقت پر اس تھکن کو پہچان لیں، خود پر رحم کریں، اور زندگی کو اتنی سختی سے نہ پکڑیں کہ سانس لینا مشکل ہو جائے، کیونکہ جب سوچ ہلکی ہوتی ہے تو زندگی خود بخود آسان محسوس ہونے لگتی ہے۔
Very good topic and unique as well.Inthink we all must understand this fact so, we can handle this situation, whenever it comes in our life. Aneen
ReplyDeleteThank you for your nice comments.
Deleteamazing stuff
ReplyDeleteThank you. Please visit again.
Delete