جب کہیں سکون نہ ملے تو خود سے ملیں

 جب کہیں سکون نہ ملے تو خود سے ملیں

یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کی اس تیز رفتار دوڑ میں ہم سب کسی نہ کسی موڑ پر تھک کر چور ہو جاتے ہیں اور تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ باہر کی رنگینیوں اور ہنگاموں میں وہ سکون نہیں ہے جس کی تلاش میں ہم نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی کیونکہ ہم انسانوں کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ ہم ہمیشہ خوشی اور اطمینان کو باہر کی مادی چیزوں یا دوسرے لوگوں کے رویوں میں تلاش کرتے ہیں حالانکہ اصل سکون تو ہمارے اپنے اندر چھپا ہوتا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں اور پھر جب ہر طرف سے ناکامی اور مایوسی ملتی ہے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دنیا سے ناطہ توڑ کر تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ سے ملاقات کریں کیونکہ جب کہیں سکون نہ ملے تو خود سے ملنا ہی واحد راستہ بچتا ہے جو ہمیں دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آج کے اس دور میں جہاں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے وہاں ہم اپنی اصل پہچان کھو چکے ہیں اور ہم نے اپنے اوپر اتنے خول چڑھا لیے ہیں کہ ہمیں خود بھی نہیں پتہ ہوتا کہ ہم حقیقت میں کیا چاہتے ہیں اور ہماری روح کس چیز کی پیاسی ہے مگر یاد رکھیے کہ سکون کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے بازار سے خریدا جا سکے یا کسی سفر پر جا کر ڈھونڈا جا سکے بلکہ یہ تو ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے جو تب حاصل ہوتی ہے جب ہم اپنی ذات کے ساتھ سچے ہو جاتے ہیں اور اپنی کمزوریوں اور خوبیوں کو تسلیم کر کے خود کو قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں کیونکہ جب تک آپ اپنے آپ سے دور بھاگتے رہیں گے تب تک دنیا کی کوئی بھی نعمت آپ کو وہ خوشی نہیں دے سکے گی جس کی آپ کو طلب ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان دن بھر کی مصروفیات سے تھوڑا وقت نکال کر خاموشی میں بیٹھے اور اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنے کیونکہ وہ خاموشی جو ہمیں ڈراتی ہے اصل میں وہی ہمارے سوالوں کے جواب چھپائے بیٹھی ہوتی ہے اور جب ہم خود سے ملتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے عرصے سے اپنے ہی خلاف جنگ لڑ رہے تھے اور اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلا گھونٹ رہے تھے صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے یا ہم دوسروں کی نظر میں کیسے لگیں گے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس دن آپ نے خود کو اہمیت دینا شروع کر دی اور اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا اسی دن سے آپ کو محسوس ہوگا کہ بوجھل پن کم ہو رہا ہے اور آپ کے اندر ایک نئی روشنی جنم لے رہی ہے جو آپ کو زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں راستہ دکھائے گی۔

سکون کی تلاش اور انسانی فطرت

انسانی زندگی کے مختلف ادوار میں ہمیں بارہا ایسے تجربات ہوتے ہیں جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر اس بے چینی کا حل کیا ہے اور ہم کیوں ہر وقت ایک انجانے خوف یا اضطراب کی گرفت میں رہتے ہیں حالانکہ بظاہر ہمارے پاس سب کچھ ہوتا ہے لیکن پھر بھی دل کے کسی کونے میں ایک خالی پن رہ جاتا ہے جو کبھی نہیں بھرتا کیونکہ ہم نے اپنی خوشیوں کا محور دوسروں کو بنا رکھا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ شاید کسی خاص انسان کے آنے سے یا کسی بڑی کامیابی کے ملنے سے ہماری زندگی مکمل ہو جائے گی مگر یہ سب سراب ہے کیونکہ اصل مکمل ہونے کا احساس تب آتا ہے جب آپ اپنی ذات کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹ کر خود کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہ ادراک حاصل کر لیتے ہیں کہ آپ کی خوشی کا ضامن کوئی دوسرا نہیں بلکہ آپ خود ہیں اور جب تک آپ اپنے اندرونی شور کو ختم نہیں کریں گے تب تک باہر کی دنیا کی کوئی بھی موسیقی آپ کو سکون نہیں پہنچا سکے گی اس لیے اپنی زندگی میں ٹھہراؤ لائیں اور اس بھاگ دوڑ میں تھوڑا سا وقفہ لیں تاکہ آپ یہ دیکھ سکیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں اور آپ کی منزل کیا ہے کیونکہ اکثر ہم راستوں کی خوبصورتی میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمیں جانا کہاں تھا اور پھر جب تھکن حد سے بڑھ جاتی ہے تو ہم مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ وہی وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنے اندر جھانکنا چاہیے اور اپنی روح سے مکالمہ کرنا چاہیے کیونکہ روح کا سکون ہی اصل کامیابی ہے اور جو شخص اپنے آپ سے مل لیتا ہے وہ پھر کبھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتا چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہو اس لیے اپنی ذات کے ساتھ دوستی کریں اور اسے وہ وقت دیں جس کی وہ حقدار ہے تاکہ آپ کو وہ سکون میسر آ سکے جو آپ کے آس پاس ہی موجود ہے مگر آپ کی بے خبری کی وجہ سے آپ سے دور ہے۔

اپنی ذات سے ملاقات کا فن

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر خود سے کیسے ملا جائے اور اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنے کا کیا مطلب ہے تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ آپ اپنی پسند اور ناپسند کو پہچانیں اور ان کاموں کے لیے وقت نکالیں جو آپ کو اندرونی طور پر خوشی دیتے ہیں نہ کہ وہ کام جو صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے کیے جاتے ہیں کیونکہ جب آپ اپنی مرضی کے مطابق جینا شروع کرتے ہیں تو آپ کے اندر کا انسان بیدار ہوتا ہے اور آپ کو زندگی کے رنگ زیادہ گہرے اور خوبصورت نظر آنے لگتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ آپ خود اپنے لیے ایک سہارا بن جاتے ہیں اور آپ کی شخصیت میں وہ وقار پیدا ہوتا ہے جو صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اپنی ذات کی گہرائیوں سے واقف ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے خیالات کو تحریر کریں یا کسی پرسکون جگہ بیٹھ کر صرف اپنی سانسوں پر توجہ دیں کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی مشقیں آپ کو موجودہ لمحے میں رہنا سکھاتی ہیں اور ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے نجات دلاتی ہیں جو کہ ذہنی دباؤ کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور جب آپ موجودہ لمحے میں جینا سیکھ لیتے ہیں تو سکون خود بخود آپ کے قدم چومتا ہے کیونکہ سکون کہیں باہر نہیں بلکہ آپ کے اندر کی خاموشی میں بسا ہوا ہے جسے ڈھونڈنے کے لیے بس ایک مخلصانہ کوشش کی ضرورت ہے اور جب آپ ایک بار اپنی ذات سے مل لیتے ہیں تو پھر آپ کو دنیا کی بھیڑ میں بھی وہ سکون میسر رہتا ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی میسر نہیں آتا اس لیے خود کو وقت دیں اور اپنی ذات کی قدر کریں کیونکہ آپ اس دنیا میں یونیک ہیں اور آپ کا سکون آپ کی اپنی دسترس میں ہے۔

تنہائی اور سکون کا گہرا تعلق

ہم میں سے اکثر لوگ تنہائی سے گھبراتے ہیں اور اسے ایک سزا سمجھتے ہیں حالانکہ تنہائی تو وہ بہترین موقع ہے جو ہمیں اپنی ذات کے قریب لاتا ہے اور ہمیں وہ سچائیاں دکھاتا ہے جو ہجوم میں کبھی نظر نہیں آتیں کیونکہ جب آپ اکیلے ہوتے ہیں تو آپ کے پاس اپنے سوا کوئی نہیں ہوتا اور تب ہی آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کا بہترین دوست کون ہے اور آپ کے اندر کتنی طاقت چھپی ہوئی ہے اس لیے تنہائی کو دشمن نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک نعمت کے طور پر قبول کریں اور اس وقت کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کریں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی بڑے کام ہوئے ہیں وہ تنہائی اور گوشہ نشینی کے دوران ہی پایہ تکمیل تک پہنچے ہیں کیونکہ جب انسان شور و غل سے دور ہوتا ہے تو اس کے تخلیقی جوہر کھل کر سامنے آتے ہیں اور اسے وہ بصیرت حاصل ہوتی ہے جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتی اس لیے اپنی زندگی میں سے کچھ وقت تنہائی کے لیے مخصوص کریں جہاں کوئی آپ کو پریشان نہ کرے اور آپ صرف اپنے ساتھ ہوں تاکہ آپ اپنی الجھنوں کو سلجھا سکیں اور اپنے دل کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں کیونکہ آپ سے بہتر آپ کا علاج کوئی نہیں کر سکتا اور جو سکون آپ کو اپنی ذات کے ساتھ بیٹھ کر ملے گا وہ دنیا کی کسی محفل میں نہیں مل سکتا اس لیے خود کو تنہا نہ سمجھیں بلکہ یہ سمجھیں کہ آپ کو قدرت نے ایک موقع دیا ہے کہ آپ خود کو دریافت کر سکیں اور اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان سکیں کیونکہ جس دن آپ نے خود کو پہچان لیا اس دن آپ کو کائنات کی ہر چیز میں ایک ترتیب اور سکون نظر آنے لگے گا جو آپ کی زندگی کو بدل کر رکھ دے گا اور آپ کو ایک نیا انسان بنا دے گا۔

ذہنی سکون اور جذباتی توازن

آج کل کی دنیا میں جہاں ہر طرف افراتفری ہے وہاں ذہنی سکون حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے اگر ہم اپنی ترجیحات کو درست کر لیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ اکثر ہم ان باتوں پر پریشان ہوتے رہتے ہیں جنہیں ہم بدل نہیں سکتے اور یہی بے جا فکر ہمارے سکون کو غارت کر دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم چیزوں کو قبول کرنا سیکھیں اور جو ہمارے بس میں ہے اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں اور باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ توکل میں جو سکون ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں ہے اور جب ہم اپنی فکریں اپنے رب کے حوالے کر دیتے ہیں تو ہمیں ایک عجیب سی ہلکی پھلکی کیفیت محسوس ہوتی ہے جو ہمیں ہر طرح کے ذہنی بوجھ سے آزاد کر دیتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی ذات کے ساتھ سچا سکون ملتا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا محافظ موجود ہے اور وہ ہماری بہتری ہی چاہے گا اس لیے اپنے دل کو نفرتوں اور کینوں سے پاک کریں اور دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں کیونکہ جب آپ دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو اصل میں آپ اپنے آپ کو اس بوجھ سے آزاد کرتے ہیں جو آپ کے سکون کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا اور جب آپ کا دل صاف ہوتا ہے تو آپ کی روح پر نور ہو جاتی ہے اور آپ کو اپنی ذات کے اندر وہ سکون محسوس ہوتا ہے جس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں ہے اس لیے اپنی جذباتی صحت پر توجہ دیں اور منفی سوچوں کو اپنے قریب نہ آنے دیں تاکہ آپ کی زندگی میں توازن پیدا ہو سکے اور آپ ایک بھرپور اور پرسکون زندگی گزار سکیں جو نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ سے جڑے لوگوں کے لیے بھی خوشی کا باعث بنے کیونکہ ایک پرسکون انسان ہی دوسروں میں سکون بانٹ سکتا ہے اور یہی انسانیت کا اصل حسن ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے اور زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔

No comments:

Post a Comment