آپ کے اندر موجود وہ صلاحیتیں جو آپ نے آج تک استعمال نہیں کیں
زندگی میں اکثر وہ لمحہ آتا ہے جب ہم رک کر خود کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں: “کیا یہی سب کچھ ہے؟ کیا مجھ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں؟” یہ سوال معمولی نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے دل کی گہرائی اسے جھنجھوڑتی ہے کہ تم نے ابھی تک اپنے اندر چھپی ہوئی طاقتوں اور صلاحیتوں کی اصل شکل کو چھیڑا ہی نہیں۔ ہر انسان پیدا ہی کسی نہ کسی خاص خوبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن ہم میں سے زیادہ لوگ اپنی روزمرہ کی مصروفیات، ذمہ داریوں، خوف، اور معاشرتی دباؤ میں وہ صلاحیتیں دبا دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ انسان وہ زندگی نہیں جیتا جس کیلئے وہ بنایا گیا تھا۔
وہ صلاحیتیں جنہیں آپ نے کبھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا
انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ اپنی خوبیوں کو معمولی سمجھ لیتا ہے۔ ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔ آپ کے اندر وہ بات ہوسکتی ہے جس کا اندازہ آج تک آپ کو خود بھی نہیں ہوا، مثلاً:
گفتگو کرنے کی قدرتی صلاحیت
کئی لوگ عام محفلوں میں ایسا بولتے ہیں کہ ماحول بدل جاتا ہے، لیکن انہوں نے کبھی اسے ہنر نہیں سمجھا۔ یہی لوگ اگر اسے پروفیشن بنا لیں تو بہترین ٹرینر، مشیر، یوٹیوبر یا اسپیکر بن سکتے ہیں۔
مشاہدہ کرنے کی قوت
کچھ لوگ خاموش رہتے ہیں لیکن وہ دنیا کو بہت باریک بینی سے دیکھتے ہیں۔ یہ قدرتی خوبی بہترین رائٹر، تھنکر، مسئلہ حل کرنے والے اور پلانر بننے کی بنیاد ہوتی ہے۔
نظم و ضبط رکھنے کی عادت
کچھ لوگ بے حد منظم ہوتے ہیں۔ چیزیں ترتیب سے رکھنا، کام وقت پر کرنا، دوسروں کے مقابلے میں بہتر سسٹم کے ساتھ زندگی گزارنا۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو آج کے دور میں مینیجمنٹ، آفس ورک، ایونٹ آرگنائزنگ، حتیٰ کہ چھوٹے بزنس میں بھی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
لوگوں کو سمجھنے کی اہلیت
کچھ لوگ صرف چہرہ دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ سامنے والا خوش ہے، پریشان ہے، یا جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ خوبی ہر شخص میں نہیں ہوتی اور یہ مستقبل میں بہت سی کامیابیوں کا دروازہ کھول سکتی ہے—HR، کسٹمر ڈیلنگ، کونسلنگ، یا ٹیم مینجمنٹ۔
آپ نے اپنی صلاحیتوں کو کیوں استعمال نہیں کیا؟
یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب اتنا آسان بھی نہیں۔
خوف کی وجہ سے
اکثر لوگ وہ قدم اس لئے نہیں اٹھاتے جس سے ان کی اصل صلاحیت سامنے آسکتی ہے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ناکام ہوجائیں گے۔ ناکامی کا خوف انسان کی کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
خود کو کم تر سمجھنا
پاکستانی معاشرے میں بہت سے لوگ اپنی خوبیوں کو خود ہی نیچا دکھاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ کوئی خاص بات نہیں، حالانکہ وہی خوبی دوسروں کیلئے بہت بڑی ہوتی ہے۔
محولاتی دباؤ
خاندان، رشتہ دار، یا معاشرتی روایات اکثر انسان کی اصل قابلیت کو دبا دیتی ہیں۔ کئی لوگ صرف اس لئے اپنی پَسند کا کام چھوڑ دیتے ہیں کہ گھر والے کیا کہیں گے۔
موقع نہ ملنا
کچھ صلاحیتیں مواقع کا انتظار کرتی ہیں۔ اگر وہ صحیح وقت پر صحیح جگہ نہ ملیں تو وہ دھند میں گم ہوجاتی ہیں۔
ان چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کیسے پہچانیں؟
یہ عمل مشکل نہیں، بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔
اپنے ماضی پر نظر ڈالیں
آپ نے زندگی میں جب بھی کچھ اچھا کیا، کسی نے تعریف کی، یا آپ کے کام نے کسی کو متاثر کیا۔ وہیں آپ کی صلاحیت چھپی ہوئی ہے۔
وہ کام دیکھیں جو آپ بغیر تھکے کرسکتے ہیں
جسے کرنے میں آپ کو خوشی ملتی ہے، وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا، وہ آپ کا قدرتی ہنر ہے۔
لوگوں کا فیڈبیک سنیں
کبھی کبھی لوگ آپ میں وہ خوبی دیکھ لیتے ہیں جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ ان کو سنیں اور اس کو صحیح طور پر استعمال کریں۔
اپنے کمفرٹ زون سے باہر آئیں
کچھ صلاحیتیں تب جاگتی ہیں جب انسان خود کو چیلنج کرتا ہے۔ جب تک آپ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نہیں نکلیں گے تب تک آپ کو اندازہ ہی نہیں ہو گا کے آپ کے اندر کتنا ٹیلنٹ موجود ہے۔
صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے عملی طریقے
محض پہچان کافی نہیں ہوتی۔ استعمال کرنا ضروری ہے۔
چھوٹا قدم اٹھائیں
اگربولنے کا ہنر ہے تو کسی چھوٹی محفل میں بات کرنا شروع کریں۔ اگر لکھنے کا شوق ہے تو روزانہ دو پیراگراف لکھنے کی عادت ڈالیں۔
غلطیوں سے ڈرنے کی بجائے سیکھیں
غلطیوں کے بغیر کوئی مہارت پیدا نہیں ہوتی۔ غلطی کریں گے تو آپ سیکھیں گے۔
اپنے ہنر کو کسی پلیٹ فارم تک لے جائیں
اب تو سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اسٹیج دے دیا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، بلاگنگ، پوڈکاسٹ، جو مناسب لگے شروع کریں۔
تسلسل رکھیں
صلاحیتیں ایک دن میں نہیں چمکتیں، مگر تسلسل انہیں ہیرا بنا دیتا ہے۔
آپ کے اندر کون سی پوشیدہ طاقت موجود ہے؟
انسان کے اندر چند ایسی صلاحیتیں ہوتی ہیں جو پوری زندگی ساتھ رہتی ہیں لیکن وہ کبھی سامنے نہیں آتیں، جیسے:
فیصلہ کرنے کی قوت
کئی لوگ بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں لیکن انہیں علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ خوبی کاروبار، ٹیم لیڈرشپ اور فیملی سسٹم ہر جگہ قیمتی ہے۔
دوسروں کو بدلنے کی صلاحیت
کچھ لوگوں کی بات میں وہ وزن ہوتا ہے جو دوسروں کو متاثر کر دیتا ہے۔ اور یہ چیز کرنے سے آتی ہے۔
مستقل مزاجی
جب سب چھوڑ دیتے ہیں، یہ لوگ تب بھی ڈٹے رہتے ہیں۔ یہی مستقل مزاجی کامیابی کی جڑ ہے۔
مواقع کو پہچاننے کی ذہانت
کچھ لوگوں کو فوراً پتا چل جاتا ہے کہ یہ موقع اس کو پکڑلو۔ یہ خوبی انہیں زندگی میں بہت آگے لے جاتی ہے۔
اپنی صلاحیتوں کو چھپانا کیوں ظلم ہے؟
اپنی خوبیوں کو استعمال نہ کرنا خود پر بھی ظلم ہے اور دنیا پر بھی۔ دنیا کو آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنی صلاحیت چھپائے بیٹھے ہیں تو آپ نہ صرف خود کو روک رہے ہیں بلکہ معاشرہ بھی آپ کی وجہ سے ایک اچھا انسان کھو رہا ہے۔
اگر آج نہیں تو کب؟
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ وقت واپس نہیں آتا۔ اگر آپ نے وہ سب نہیں کیا جو آپ کرسکتے تھے، تو یہ احساس کبھی کبھی انسان کو پوری زندگی کھا جاتا ہے۔ اس لئے آج ہی اپنے دل سے پوچھیں۔ “میں کس چیز میں سب سے بہترہوں؟” پھر اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔
اختتام
آپ کے اندر موجود صلاحیتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، صرف سو جاتی ہیں۔ انہیں جگانا آپ کا کام ہے۔ یہ دنیا صرف انہیں یاد رکھتی ہے جو اپنی صلاحیتیں استعمال کرتے ہیں، کچھ بنا کر جاتے ہیں، اور اپنے وجود کا نشان چھوڑتے ہیں۔ اور شاید… آپ بھی انہی لوگوں میں شامل ہونے کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ہنر آپ کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دےگا۔ آپ اپنن ملازمت سے ریٹائر تو ہو سکتے ہیں ہیں مگر صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے آپ بوڑھے نہیں ہوسکتے۔
No comments:
Post a Comment