کیا بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں؟
زندگی کا سفر عجیب ہے۔ جوانی میں لگتا ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں، ہر مسئلے کا حل
ہمارے پاس ہے اور دنیا کو ہمیں ہی سمجھنا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے،
انسان سمجھتا ہے کہ اصل عقل اور اصل فائدہ تو اُن لوگوں کے پاس ہے جنہوں نے زندگی
کے پچاس ساٹھ سال گزار کر دنیا کو قریب سے دیکھا ہوتا ہے۔ یہ سوال آج بھی اکثر لوگ پوچھتے ہیں بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں یا جوان؟ حقیقت اتنی سادہ نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ تجربہ عمر کے
ساتھ بڑھتا ہے اور تجربہ وہ دولت ہے جو کسی کتاب سے نہیں ملتی۔
عمر کے ساتھ آنے والی گہری سمجھ
بوڑھے لوگ زندگی کو ٹھنڈے دماغ سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مسئلہ چیخنے
چلانے سے حل نہیں ہوتا۔ وہ جلدی فیصلے نہیں کرتے اور نہ ہی ہر بات پر جذبات میں
آتے ہیں۔ ان کے پاس جو سمجھ ہوتی ہے وہ کئی حادثوں، غلطیوں اور کامیابیوں کے
نتیجے میں بنتی ہے۔ زندگی کو جتنا قریب سے دیکھا جاتا ہے، اتنی ہی گہری سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ
ہے کہ بوڑھے لوگ اکثر بہتر مشورہ دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ جذبات سے زیادہ حقیقت پسند ہوتے ہیں۔
تجربہ: وہ دولت جو صرف وقت دیتا ہے
دنیا کے بڑے بزنس، بڑی کمپنیاں اور بڑی کامیابیاں صرف جوانوں نے نہیں بنائیں۔ کئی لوگ اپنی زندگی کا اصل مقام
پچاس یا ساٹھ کے بعد پاتے
ہیں۔ مشہور مثال دیکھیں: کرنل سینڈرز نے کے ایف سی کی بنیاد ساٹھ سال کی عمر کے بعد رکھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بوڑھا ہونا ناکارہ ہونا نہیں، بلکہ استعمال نہ ہونا
نقصان ہے۔ انسان جتنا زیادہ دیکھے گا، اتنا زیادہ سیکھے گا۔ اور جتنا زیادہ سیکھے گا، اتنا
زیادہ کارآمد ہوگا۔
برداشت اور حکمت: جو جوانی میں نہیں ہوتیں
جوانی میں انسان جلدی ناراض ہو جاتا ہے، جلدی فیصلہ کرتا ہے اور جلدی جذباتی
ہوجاتا ہے۔ عمر کے ساتھ انسان میں
برداشت آتی ہے۔ برداشت ایک خوبی ہے جو معاملے کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔ بوڑھے لوگ وقتی فائدے کے بجائے دور کی سوچ رکھتے ہیں، اسی لیے ان کے فیصلے زیادہ
مضبوط ہوتے ہیں۔
خاندان کا ستون کون؟ بوڑھے لوگ
گھر میں بزرگ ہوں تو گھر میں رہنمائی ہوتی ہے۔ ان کی موجودگی ایک سائے کی طرح ہوتی ہے جو راستہ بھی دکھاتے ہیں اور غلطی سے بھی
بچاتے ہیں۔ چاہے مالی فیصلے ہوں، رشتوں کے مسائل ہوں یا بچوں کی تربیت، بوڑھے لوگوں کی بات
زیادہ وزن رکھتی ہے۔ ان کی وہ باتیں جو جوانی میں چبھتی تھیں، وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوتی ہیں۔
مشکل حالات میں بوڑھے لوگوں کی بصیرت
کسی مشکل صورتحال میں اگر نوجوانوں اور بزرگوں سے مشورہ لیا جائے تو فرق صاف نظر
آتا ہے۔ نوجوان حل ڈھونڈنے میں تیزی دکھاتے ہیں، جبکہ بزرگ مسئلے کی جڑ بھی دکھاتے ہیں اور
حل بھی سمجھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مسئلہ دو دن میں حل نہیں ہوتا۔ ان کی سوچ میں وہ پختگی ہوتی ہے جو صرف وقت ہی دے سکتا ہے۔
بوڑھے لوگ غلطیوں سے سیکھ چکے ہوتے ہیں
جوانی میں انسان کئی غلطیاں کرتا ہے، فیصلے غلط بھی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی نقصان
بھی ہوتا ہے۔
لیکن وقت انسان کو سکھا دیتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کہاں رکنا ہے، کہاں بات کرنی ہے، کہاں چپ رہنا ہے۔ یہ سب عمر کے بعد ہی سمجھ آتا
ہے۔ اسی لیے بوڑھے لوگ کام کے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے غلطیاں دیکھ کر اپنی
سوچ کو ٹھیک کیا ہوتا ہے۔
زندگی کے اتار چڑھاؤ کا حقیقی مشاہدہ
زندگی صرف کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ ناکامیوں کا تسلسل بھی ہے۔ بوڑھے لوگ وہ سب کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں جو نوجوان ابھی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ غربت، خوشحالی، مسائل، آسانیاں، رشتے، ٹوٹ پھوٹ سب کچھ انہوں نے بھگتا ہوتا ہے۔ یہی تجربہ انہیں زیادہ قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
سماجی مسائل میں بوڑھوں کی بصیرت
معاشرے میں عجیب بات یہ ہے کہ ہم بوڑھے لوگوں کی رائے کم سنتے ہیں جبکہ اُن کے
پاس حقیقت زیادہ ہوتی ہے۔ ہر مسئلے کو جذبات سے نہیں بلکہ تجربے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ بوڑھے لوگ دیکھ چکے ہوتے ہیں کہ حالات کیسے بدلتے ہیں، لوگ کیسے بدلتے ہیں اور
فیصلے کیسے انجام دیتے ہیں۔
پچاس کے بعد ذہن زیادہ مضبوط ہوتا ہے
ایک عام بات ہے کہ پچاس سال کے بعد انسان سست ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذہن
زیادہ حکمت والا ہوجاتا ہے۔ سوچ میں گہرائی آتی ہے۔ فیصلوں میں ٹھہراؤ آتا ہے۔ بات میں وزن آتا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بھی نوجوان میں نہیں ہوتیں۔
نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان پل
اگر گھر میں بزرگ نہ ہوں تو نئی نسل الجھن کا شکار ہوجاتی ہے۔ بزرگ راستہ دکھانے والے ہوتے ہیں۔
وہ حالات کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ نئی نسل کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ دونوں زمانے دیکھ چکے ہوتے
ہیں پرانا بھی اور نیا بھی۔
مستقبل کی منصوبہ بندی میں بوڑھے لوگ بہترکر سکتے ہیں
ہر فیصلہ کچھ تجربہ مانگتا ہے۔ خاندان کی مالی حالت ہو، بچوں کی تعلیم ہو یا گھر کے بڑے فیصلے —
بوڑھے لوگوں کی رائے اکثر ٹھیک نکلتی ہے کیونکہ ان کے پاس وقت کی آنکھ سے دیکھا
ہوا علم ہوتا ہے۔
ان کے فیصلے جذبات کے بغیر ہوتے ہیں، اسی لیے دیرپا ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی میں پیچھے مگر عقل میں آگے
یہ سچ ہے کہ آج کی ٹیکنالوجی کو نوجوان زیادہ بہتر استعمال کرتے ہیں، مگر عقل اور
سمجھ کے فیصلے آج بھی بوڑھے لوگ ہی کرتے ہیں۔ کام بڑی مشینوں سے نہیں چلتے، صحیح فیصلوں سے چلتے ہیں۔ اسی لیے زندگی اور تجربہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
صرف جسم بوڑھا ہوتا ہے، عقل نہیں
یہ ایک غلط فہمی ہے کہ بوڑھا انسان ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جسم بوڑھا ہوتا ہے مگر عقل نہیں۔ ایک شخص پچاس یا ساٹھ کا ہو کر ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہوسکتا ہے، جبکہ نوجوان
ذہنی طور پر کمزور۔ سوچ اور مشاہدہ وہ دولت ہے جو بڑھاپے میں اپنی طاقت دکھاتی ہے۔
بوڑھے لوگوں کی ایک نظر کافی ہوتی ہے
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ نوجوان کئی دن سوچتے رہتے ہیں لیکن بزرگ ایک نظر میں بات
سمجھ جاتے ہیں۔ وہ چیزوں کی گہرائی جانتے ہیں۔ لوگوں کو پہچاننے کا فن جانتے ہیں۔ باتوں کے پیچھے معنی سمجھتے ہیں۔ یہ سب صرف دیکھے بھالے تجربے سے آتا ہے۔
کارآمد ہونے کا اصل مطلب
کارآمد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بھاگ دوڑ کرے۔ اصل کارآمدی یہ ہے کہ انسان کا وجود دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ مشورہ ہو، رہنمائی ہو، فیصلہ ہو یا زندگی کی کسی مشکل گھڑی میں سہارا بوڑھے لوگ اکثر ان سب میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔
آخر میں سچ یہی ہے
اگر ہم سوچیں تو سوال کا جواب بہت واضح ہے ہاں، بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے وہ دیکھا ہوتا ہے جو نوجوان ابھی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وہ سمجھ ہوتی ہے جو کتابوں میں نہیں لکھی ہوتی۔ اور ان کی باتوں میں وہ گہرائی ہوتی ہے جو صرف وقت دے سکتا ہے۔
ہمیں بزرگوں سے کیا سیکھنا چاہیے
بزرگ ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی ایک دوڑ نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ جلدی میں فیصلے نقصان دیتے ہیں۔ برداشت کرنے والا انسان ہی کامیاب ہوتا ہے۔
اور انسان کی اصل طاقت اس کی عقل اور تجربہ ہوتی ہے نا کہ اس کی طاقت۔
No comments:
Post a Comment