وہ باتیں جو لوگ کبھی دل سے نہیں بھولتے
زندگی لمبی ضرور ہے، مگر کچھ باتیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ انسان لاکھ چاہے، تب بھی انہیں اپنے دل سے نکال نہیں سکتا۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، شہروں کے نقشے بدل جاتے ہیں، مگر چند لمحے، چند چہرے، چند جملے اور چند احساسات ہمیشہ کے لیے دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ دل ایک عجیب خزانہ ہے۔ یہ چاہے تو چھوٹی سی بات کو بھی عمر بھر کی یاد بنا دیتا ہے، اور چاہے تو بڑی سے بڑی تکلیف کو بھی برداشت کر کے چپ چاپ بھلا دیتا ہے۔
یہ تحریر اسی بارے میں ہے۔ ان باتوں، ان واقعات اور ان احساسات کے بارے میں جو لوگ کبھی نہیں بھولتے، چاہے برس بیت جائیں یا انسان خود بدل جائے۔
بچپن کے وہ سادہ دن
انسان اپنے بڑے ہونے میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے احساس ہی نہیں رہتا کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دور بچپن تھا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ دور بھولتا بھی نہیں۔ وہ اسکول کے راستے، وہ دھوپ میں کھیلنا، وہ پانی کے گلاس کو ہاتھ میں پکڑ کر دوڑتے ہوئے گھر میں داخل ہونا… یہ سب تصویریں ذہن میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ بچپن کی کچھ باتیں انسان کیوں نہیں بھول پاتا؟ اس لیے کہ وہ دور بغیر کسی ذمہ داری، بغیر کسی خوف، بغیر کسی حساب کتاب کے گزرتا ہے۔ بس جینا ہوتا ہے، کھل کر جینا ہوتا ہے۔ یہی سادگی دل کو ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔
محبت کی پہلی جھلک
چاہے انسان مانے یا نہ مانے، محبت کا پہلا احساس کبھی دل سے نہیں نکلتا۔ وہ پہلی بار دل کا دھڑکنا، وہ پہلی بار کسی کے نام پر مسکرانا، وہ پہلی بار کسی کی آواز سن کر اندر ایک عجیب سا سکون محسوس ہونا… یہ سب دل کی دیواروں میں ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کی پہلی محبت کامیاب ہوتی ہے، کچھ کی نہیں ہوتی۔ مگر یادیں کامیابی یا ناکامی کی پابند نہیں ہوتیں۔ وہ اپنی جگہ ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔
کسی کا دیا ہوا سچّا پیار
انسان سب کچھ بھول سکتا ہے، مگر وہ نہیں بھول سکتا جس نے اسے دل سے چاہا ہو۔ یہ چاہے ماں کی دعا ہو، باپ کا سہارا، بہن کا پیار، دوست کی وفاداری یا کسی خاص شخص کا خلوص۔ خالص محبت کی خوشبو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اپنی محبت کا اظہار لفظوں سے کرتے ہیں، کچھ عمل سے۔ مگر دونوں طرح کی محبت انسانی دل میں ہمیشہ ایک ہلکی سی حرارت چھوڑ جاتی ہے، جو وقت کے ساتھ بجھتی نہیں بلکہ اور گہری ہوتی جاتی ہے۔
وہ جملے جو دل میں تیر کی طرح لگتے ہیں
کچھ الفاظ انسان کے دل میں چبھ کر رہ جاتے ہیں۔ ایک سخت بات، ایک غلط فہم جملہ، ایک ناہموار لہجہ… یہ سب انسان کو اندر سے زخمی کر دیتے ہیں۔ اور یہ زخم اکثر عمر بھر رہ جاتے ہیں۔ دل جتنا نرم ہوتا ہے، اتنی جلدی ٹوٹتا ہے اور اتنی ہی دیر سے جڑتا ہے۔ کچھ باتیں انسان صرف سنتا نہیں، اپنے اندر قید کر لیتا ہے اور پھر برسوں تک بھول نہیں پاتا۔
وہ لوگ جنہوں نے ساتھ چھوڑ دیا
زندگی میں ہر کوئی ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔ کچھ لوگ خود چھوڑ جاتے ہیں، کچھ حالات انہیں لے جاتے ہیں، کچھ فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور کچھ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھولے نہیں جاتے، کیونکہ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت دل کی گہرائی میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ انسان اکثر سوچتا رہتا ہے کہ اگر وہ لوگ رہ جاتے تو زندگی کیسی ہوتی؟ یہ سوال کبھی مکمل جواب نہیں پاتا، اور شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
غلطیاں جو انسان کبھی نہیں بھولتا
انسان کی اپنی غلطیاں بھی اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ ایک غلط فیصلہ، ایک غلط لفظ، ایک غلط قدم… انسان خود کو معاف کر دے تو بھی دل اس غلطی کا وزن اٹھائے رکھتا ہے۔ کچھ غلطیاں انسان کو سکھاتی ہیں، کچھ بدل دیتی ہیں، کچھ توڑ دیتی ہیں، اور کچھ غلطیاں زندگی کا رخ ہی موڑ دیتی ہیں۔ مگر ایک بات طے ہے۔ انسان ان سے سیکھے یا نہ سیکھے، انہیں بھول نہیں سکتا۔
وہ وقت جب کوئی تھا اور پھر نہیں رہا
زندگی کا سب سے بڑا صدمہ وہ ہوتا ہے جب کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتا ہے۔ یہ جدائیاں انسان کی یادوں میں کبھی کمزور نہیں پڑتیں۔ وقت زخموں پر مرہم ضروررکھتا ہے، مگر بچھڑ جانے والوں کی یادیں کبھی نہیں مٹتی۔ انسان خود کو سمجھاتا رہتا ہے، زندگی گزار لیتا ہے، ہنستا بھی ہے، کام بھی کرتا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں وہ لوگ ہمیشہ آہستہ آہستہ سانس لے رہے ہوتے ہیں۔
وہ جگہیں جہاں زندگی بدل گئی
کچھ مقامات انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔ کوئی درخت کے نیچے بیٹھا لمحہ، کسی چھت پر گزارا گیا وقت، کسی کمرے کی خاموشی، کسی سڑک کا آخری موڑ… انسان ان جگہوں پر شاید دوبارہ نہ جائے مگر یادیں ہمیشہ جاتی رہتی ہیں۔ ایسے مقامات صرف جگہیں نہیں ہوتے، یہ زندگی کے وہ موڑ ہوتے ہیں جنہوں نے انسان کی سوچ اور راستے بدل دیئے ہوتے ہیں۔
وہ لمحات جب انسان ٹوٹ کر رہ گیا تھا
کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان پوری طرح بکھر جاتا ہے۔ یہ لمحے بھولے نہیں جاتے۔ یہ تکلیفیں، یہ آنسو، یہ خاموشی۔ یہ سب دل میں محفوظ ہو کر انسان کے اندر ایک مضبوطی پیدا کردیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ انسان بہتر ہو جاتا ہے، مگر وہ لمحے اس کی زندگی کا حصہ ہمیشہ رہتے ہیں۔
وہ چھوٹے چھوٹے احسان جو بڑے لگتے ہیں
انسان ہمیشہ بڑے احسان یاد نہیں رکھتا، لیکن چھوٹے احسان بھول نہیں پاتا۔ جیسے کسی نے مشکل وقت میں مسکرا کر حوصلہ دیا ہو، کسی نے خاموشی سے کندھا پیش کیا ہو، کسی نے بنا کہے مدد کر دی ہو، کسی نے ایک جملے سے پوری ہمت واپس دے دی ہو۔ یہ چھوٹے احسان انسان کے دل میں ہمیشہ جگہ بنا لیتے ہیں۔
وہ لوگ جو خلوص سے ساتھ کھڑے رہے
مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگ کبھی نہیں بھولتے۔ چاہے وہ دوست ہوں، رشتے دار ہوں، یا کوئی ایسا شخص جس سے کوئی توقع نہ تھی۔ انسان جب مشکل میں ہوتا ہے تو اسے صرف ایک چیز یاد رہتی ہے۔ کس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کس نے چھوڑ دیا۔ یہی لوگ زندگی بھر کے دل کے قریب رہتے ہیں۔
زندگی کے وہ سبق جو کہیں اور نہیں ملتے
انسان کے حالات ہی اس کے سب سے بڑے استاد ہوتے ہیں۔ کوئی حادثہ، کوئی دھچکا، کوئی فیصلہ، کوئی کامیابی۔ یہ سب ایسے سبق دیتے ہیں جو کتابوں میں نہیں ملتے۔ یہ سبق انسان کو خود پر بھروسہ کرنا سکھاتے ہیں، لوگوں کو سمجھنا سکھاتے ہیں، وقت کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔ ایسے سبق بھولے نہیں جاتے کیونکہ یہ زندگی کے ٹکڑوں میں بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔
وہ خواب جو پورے نہ ہو سکے
ادھورے خواب، ادھوری خواہشیں، ادھورے راستے۔ یہ سب دل سے نہیں نکلتے۔ انسان جیتا ہے مگر کہیں دل کے اندر ایک چھوٹا سا خلا رہ جاتا ہے، جو اسے یاد دلاتا ہے کہ کچھ خواہشیں وقت پر پوری نہیں ہو سکی۔ یہ ادھورے خواب انسان کو بار بار سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ شاید… اگر… کاش…
آخر میں… دل یاد کیوں رکھتا ہے؟
دل صرف وہی چیزیں یاد رکھتا ہے جو یا تو بےحد خوبصورت ہوں یا بےحد تکلیف دہ۔ دل ان باتوں کو یاد رکھتا ہے جنہوں نے انسان کو بدلا ہو، جھنجھوڑا ہو، مضبوط کیا ہو، یا کہیں نہ کہیں اسے چھوا ہو۔ وقت گزرتا ہے، مگر دل وہ سب سمیٹ کر رکھتا ہے جو ہمارے اندر کی کہانی بناتا ہے۔ انسان اپنے قہقہے، اپنے آنسو، اپنے زخم، اپنی محبتیں، اپنے خواب اور اپنے بچھڑ جانے والے سب دل کے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔ ہمیشہ کے لیے۔
No comments:
Post a Comment