جب کہیں سکون نہ ملے تو خود سے ملیں

 جب کہیں سکون نہ ملے تو خود سے ملیں

یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کی اس تیز رفتار دوڑ میں ہم سب کسی نہ کسی موڑ پر تھک کر چور ہو جاتے ہیں اور تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ باہر کی رنگینیوں اور ہنگاموں میں وہ سکون نہیں ہے جس کی تلاش میں ہم نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی کیونکہ ہم انسانوں کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ ہم ہمیشہ خوشی اور اطمینان کو باہر کی مادی چیزوں یا دوسرے لوگوں کے رویوں میں تلاش کرتے ہیں حالانکہ اصل سکون تو ہمارے اپنے اندر چھپا ہوتا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں اور پھر جب ہر طرف سے ناکامی اور مایوسی ملتی ہے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دنیا سے ناطہ توڑ کر تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ سے ملاقات کریں کیونکہ جب کہیں سکون نہ ملے تو خود سے ملنا ہی واحد راستہ بچتا ہے جو ہمیں دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آج کے اس دور میں جہاں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے وہاں ہم اپنی اصل پہچان کھو چکے ہیں اور ہم نے اپنے اوپر اتنے خول چڑھا لیے ہیں کہ ہمیں خود بھی نہیں پتہ ہوتا کہ ہم حقیقت میں کیا چاہتے ہیں اور ہماری روح کس چیز کی پیاسی ہے مگر یاد رکھیے کہ سکون کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے بازار سے خریدا جا سکے یا کسی سفر پر جا کر ڈھونڈا جا سکے بلکہ یہ تو ایک اندرونی کیفیت کا نام ہے جو تب حاصل ہوتی ہے جب ہم اپنی ذات کے ساتھ سچے ہو جاتے ہیں اور اپنی کمزوریوں اور خوبیوں کو تسلیم کر کے خود کو قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں کیونکہ جب تک آپ اپنے آپ سے دور بھاگتے رہیں گے تب تک دنیا کی کوئی بھی نعمت آپ کو وہ خوشی نہیں دے سکے گی جس کی آپ کو طلب ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان دن بھر کی مصروفیات سے تھوڑا وقت نکال کر خاموشی میں بیٹھے اور اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنے کیونکہ وہ خاموشی جو ہمیں ڈراتی ہے اصل میں وہی ہمارے سوالوں کے جواب چھپائے بیٹھی ہوتی ہے اور جب ہم خود سے ملتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے عرصے سے اپنے ہی خلاف جنگ لڑ رہے تھے اور اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلا گھونٹ رہے تھے صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے یا ہم دوسروں کی نظر میں کیسے لگیں گے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس دن آپ نے خود کو اہمیت دینا شروع کر دی اور اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا شروع کیا اسی دن سے آپ کو محسوس ہوگا کہ بوجھل پن کم ہو رہا ہے اور آپ کے اندر ایک نئی روشنی جنم لے رہی ہے جو آپ کو زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں راستہ دکھائے گی۔

سکون کی تلاش اور انسانی فطرت

انسانی زندگی کے مختلف ادوار میں ہمیں بارہا ایسے تجربات ہوتے ہیں جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر اس بے چینی کا حل کیا ہے اور ہم کیوں ہر وقت ایک انجانے خوف یا اضطراب کی گرفت میں رہتے ہیں حالانکہ بظاہر ہمارے پاس سب کچھ ہوتا ہے لیکن پھر بھی دل کے کسی کونے میں ایک خالی پن رہ جاتا ہے جو کبھی نہیں بھرتا کیونکہ ہم نے اپنی خوشیوں کا محور دوسروں کو بنا رکھا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ شاید کسی خاص انسان کے آنے سے یا کسی بڑی کامیابی کے ملنے سے ہماری زندگی مکمل ہو جائے گی مگر یہ سب سراب ہے کیونکہ اصل مکمل ہونے کا احساس تب آتا ہے جب آپ اپنی ذات کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹ کر خود کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہ ادراک حاصل کر لیتے ہیں کہ آپ کی خوشی کا ضامن کوئی دوسرا نہیں بلکہ آپ خود ہیں اور جب تک آپ اپنے اندرونی شور کو ختم نہیں کریں گے تب تک باہر کی دنیا کی کوئی بھی موسیقی آپ کو سکون نہیں پہنچا سکے گی اس لیے اپنی زندگی میں ٹھہراؤ لائیں اور اس بھاگ دوڑ میں تھوڑا سا وقفہ لیں تاکہ آپ یہ دیکھ سکیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں اور آپ کی منزل کیا ہے کیونکہ اکثر ہم راستوں کی خوبصورتی میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ہمیں جانا کہاں تھا اور پھر جب تھکن حد سے بڑھ جاتی ہے تو ہم مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ وہی وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنے اندر جھانکنا چاہیے اور اپنی روح سے مکالمہ کرنا چاہیے کیونکہ روح کا سکون ہی اصل کامیابی ہے اور جو شخص اپنے آپ سے مل لیتا ہے وہ پھر کبھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتا چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہو اس لیے اپنی ذات کے ساتھ دوستی کریں اور اسے وہ وقت دیں جس کی وہ حقدار ہے تاکہ آپ کو وہ سکون میسر آ سکے جو آپ کے آس پاس ہی موجود ہے مگر آپ کی بے خبری کی وجہ سے آپ سے دور ہے۔

اپنی ذات سے ملاقات کا فن

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر خود سے کیسے ملا جائے اور اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنے کا کیا مطلب ہے تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ آپ اپنی پسند اور ناپسند کو پہچانیں اور ان کاموں کے لیے وقت نکالیں جو آپ کو اندرونی طور پر خوشی دیتے ہیں نہ کہ وہ کام جو صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے کیے جاتے ہیں کیونکہ جب آپ اپنی مرضی کے مطابق جینا شروع کرتے ہیں تو آپ کے اندر کا انسان بیدار ہوتا ہے اور آپ کو زندگی کے رنگ زیادہ گہرے اور خوبصورت نظر آنے لگتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ آپ خود اپنے لیے ایک سہارا بن جاتے ہیں اور آپ کی شخصیت میں وہ وقار پیدا ہوتا ہے جو صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اپنی ذات کی گہرائیوں سے واقف ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے خیالات کو تحریر کریں یا کسی پرسکون جگہ بیٹھ کر صرف اپنی سانسوں پر توجہ دیں کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی مشقیں آپ کو موجودہ لمحے میں رہنا سکھاتی ہیں اور ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے نجات دلاتی ہیں جو کہ ذہنی دباؤ کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور جب آپ موجودہ لمحے میں جینا سیکھ لیتے ہیں تو سکون خود بخود آپ کے قدم چومتا ہے کیونکہ سکون کہیں باہر نہیں بلکہ آپ کے اندر کی خاموشی میں بسا ہوا ہے جسے ڈھونڈنے کے لیے بس ایک مخلصانہ کوشش کی ضرورت ہے اور جب آپ ایک بار اپنی ذات سے مل لیتے ہیں تو پھر آپ کو دنیا کی بھیڑ میں بھی وہ سکون میسر رہتا ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی میسر نہیں آتا اس لیے خود کو وقت دیں اور اپنی ذات کی قدر کریں کیونکہ آپ اس دنیا میں یونیک ہیں اور آپ کا سکون آپ کی اپنی دسترس میں ہے۔

تنہائی اور سکون کا گہرا تعلق

ہم میں سے اکثر لوگ تنہائی سے گھبراتے ہیں اور اسے ایک سزا سمجھتے ہیں حالانکہ تنہائی تو وہ بہترین موقع ہے جو ہمیں اپنی ذات کے قریب لاتا ہے اور ہمیں وہ سچائیاں دکھاتا ہے جو ہجوم میں کبھی نظر نہیں آتیں کیونکہ جب آپ اکیلے ہوتے ہیں تو آپ کے پاس اپنے سوا کوئی نہیں ہوتا اور تب ہی آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کا بہترین دوست کون ہے اور آپ کے اندر کتنی طاقت چھپی ہوئی ہے اس لیے تنہائی کو دشمن نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک نعمت کے طور پر قبول کریں اور اس وقت کو اپنی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کریں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی بڑے کام ہوئے ہیں وہ تنہائی اور گوشہ نشینی کے دوران ہی پایہ تکمیل تک پہنچے ہیں کیونکہ جب انسان شور و غل سے دور ہوتا ہے تو اس کے تخلیقی جوہر کھل کر سامنے آتے ہیں اور اسے وہ بصیرت حاصل ہوتی ہے جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتی اس لیے اپنی زندگی میں سے کچھ وقت تنہائی کے لیے مخصوص کریں جہاں کوئی آپ کو پریشان نہ کرے اور آپ صرف اپنے ساتھ ہوں تاکہ آپ اپنی الجھنوں کو سلجھا سکیں اور اپنے دل کے زخموں پر مرہم رکھ سکیں کیونکہ آپ سے بہتر آپ کا علاج کوئی نہیں کر سکتا اور جو سکون آپ کو اپنی ذات کے ساتھ بیٹھ کر ملے گا وہ دنیا کی کسی محفل میں نہیں مل سکتا اس لیے خود کو تنہا نہ سمجھیں بلکہ یہ سمجھیں کہ آپ کو قدرت نے ایک موقع دیا ہے کہ آپ خود کو دریافت کر سکیں اور اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان سکیں کیونکہ جس دن آپ نے خود کو پہچان لیا اس دن آپ کو کائنات کی ہر چیز میں ایک ترتیب اور سکون نظر آنے لگے گا جو آپ کی زندگی کو بدل کر رکھ دے گا اور آپ کو ایک نیا انسان بنا دے گا۔

ذہنی سکون اور جذباتی توازن

آج کل کی دنیا میں جہاں ہر طرف افراتفری ہے وہاں ذہنی سکون حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں ہے اگر ہم اپنی ترجیحات کو درست کر لیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہر چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ اکثر ہم ان باتوں پر پریشان ہوتے رہتے ہیں جنہیں ہم بدل نہیں سکتے اور یہی بے جا فکر ہمارے سکون کو غارت کر دیتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم چیزوں کو قبول کرنا سیکھیں اور جو ہمارے بس میں ہے اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں اور باقی سب اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ توکل میں جو سکون ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں ہے اور جب ہم اپنی فکریں اپنے رب کے حوالے کر دیتے ہیں تو ہمیں ایک عجیب سی ہلکی پھلکی کیفیت محسوس ہوتی ہے جو ہمیں ہر طرح کے ذہنی بوجھ سے آزاد کر دیتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی ذات کے ساتھ سچا سکون ملتا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمارا محافظ موجود ہے اور وہ ہماری بہتری ہی چاہے گا اس لیے اپنے دل کو نفرتوں اور کینوں سے پاک کریں اور دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں کیونکہ جب آپ دوسروں کو معاف کرتے ہیں تو اصل میں آپ اپنے آپ کو اس بوجھ سے آزاد کرتے ہیں جو آپ کے سکون کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا اور جب آپ کا دل صاف ہوتا ہے تو آپ کی روح پر نور ہو جاتی ہے اور آپ کو اپنی ذات کے اندر وہ سکون محسوس ہوتا ہے جس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں ہے اس لیے اپنی جذباتی صحت پر توجہ دیں اور منفی سوچوں کو اپنے قریب نہ آنے دیں تاکہ آپ کی زندگی میں توازن پیدا ہو سکے اور آپ ایک بھرپور اور پرسکون زندگی گزار سکیں جو نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ سے جڑے لوگوں کے لیے بھی خوشی کا باعث بنے کیونکہ ایک پرسکون انسان ہی دوسروں میں سکون بانٹ سکتا ہے اور یہی انسانیت کا اصل حسن ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے اور زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔

تھکاوٹ نہیں، سوچ تھک جاتی ہے

 تھکاوٹ نہیں، سوچ تھک جاتی ہے

ہم اصل میں کیوں ٹوٹنے لگتے ہیں؟

زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان خود سے کہتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے، مگر اگر ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جسم نہیں بلکہ سوچ ہار رہی ہوتی ہے، کیونکہ جسم تو معمولی آرام، ایک نیند یا ایک وقفے کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے مگر سوچ وہ بوجھ اٹھا رہی ہوتی ہے جس کا وزن نظر نہیں آتا، دن بھر کی ذمہ داریاں، ادھورے فیصلے، آنے والے کل کی فکر، گزرے ہوئے کل کا پچھتاوا، لوگوں کی توقعات اور اپنی ہی امیدوں کا دباؤ مل کر دماغ میں ایسا شور پیدا کر دیتے ہیں کہ انسان خاموش ہو کر بھی تھکا ہوا محسوس کرتا ہے، یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ وہ کمزور ہو رہا ہے حالانکہ وہ صرف ذہنی طور پر بوجھل ہو چکا ہوتا ہے۔

سوچ کی تھکن آہستہ آہستہ کیسے بڑھتی ہے؟

سوچ ایک دم سے نہیں تھکتی، یہ تھکن روز تھوڑی تھوڑی جمع ہوتی ہے، کبھی کسی کا جملہ دل پر لگ جاتا ہے، کبھی کسی کام کی ناقدری اندر خالی پن چھوڑ جاتی ہے، کبھی کوشش کے باوجود نتیجہ نہ ملنے کا دکھ سوچ کو تھوڑا سا مزید بوجھل کر دیتا ہے، ہم ہر دن خود کو سمجھاتے ہیں کہ بس ایک دن اور، بس ایک قدم اور، بس یہ مسئلہ حل ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر مسئلے ختم نہیں ہوتے اور سوچ کا بوجھ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن انسان کو لگتا ہے کہ اس میں کچھ کرنے کی طاقت ہی نہیں رہی۔

خاموش تھکاوٹ جو کسی کو دکھائی نہیں دیتی

یہ وہ تھکاوٹ ہوتی ہے جس کا کوئی زخم نظر نہیں آتا، کوئی بخار نہیں ہوتا، کوئی رپورٹ خراب نہیں آتی، مگر انسان اندر سے بکھر رہا ہوتا ہے، وہ ہنس رہا ہوتا ہے مگر دل نہیں ہنس رہا ہوتا، باتیں کر رہا ہوتا ہے مگر دل کہیں اور ہوتا ہے، لوگ اسے سست، لاپروا یا منفی سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ اصل میں وہ صرف ذہنی طور پر تھکا ہوا ہوتا ہے، یہ خاموش تھکاوٹ سب سے خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں انسان خود بھی اپنی حالت کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتا۔

ہم خود پر اتنا دباؤ کیوں ڈال لیتے ہیں؟

ہم نے زندگی کو ایک مسلسل دوڑ بنا لیا ہے جہاں رکنا جرم سمجھا جاتا ہے، ہر کوئی کچھ نہ کچھ ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، کسی کو خاندان کے لیے، کسی کو معاشرے کے لیے، کسی کو خود اپنے لیے، ہم اپنی رفتار، اپنی حد اور اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم یہ ماننے سے گھبراتے ہیں کہ ہم تھک گئے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ کمزوری کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ سب سے بڑی ایمانداری ہوتی ہے۔

سوچ کی تھکن اور رشتوں میں فاصلے

جب سوچ تھک جاتی ہے تو انسان بات کرنا کم کر دیتا ہے، وضاحت دینے سے بچنے لگتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑچڑا ہو جاتا ہے، اور یہی رویہ رشتوں میں غلط فہمیاں پیدا کر دیتا ہے، سامنے والا سمجھتا ہے کہ شاید محبت کم ہو گئی ہے یا دلچسپی ختم ہو گئی ہے، مگر اصل میں انسان کے پاس ذہنی توانائی ہی نہیں ہوتی کہ وہ ہر بات کو سنبھال سکے، اگر اس مرحلے پر رشتے سمجھداری دکھائیں تو بہت ساری ٹوٹ پھوٹ رک سکتی ہے۔

ہر وقت مضبوط دکھنے کی اداکاری

ہمیں شروع سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ مضبوط بنو، کمزوری مت دکھاؤ، روؤ مت، ہارو مت، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہر وقت مضبوط رہنے کی کوشش انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، جب انسان اپنے خوف، اپنے سوال اور اپنی تھکن کو دبا کر رکھتا ہے تو وہ سب چیزیں سوچ میں جمع ہو جاتی ہیں، اور ایک دن سوچ اتنی تھک جاتی ہے کہ انسان کو خود اپنی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔

سوچ کو آرام دینے کا مطلب بھاگنا نہیں

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سوچ کو آرام دینا ذمہ داریوں سے بھاگنے کے مترادف ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، سوچ کو آرام دینا خود کو سنبھالنے کا نام ہے، یہ مان لینے کا نام ہے کہ ہر وقت لڑتے رہنا ضروری نہیں، کبھی کبھی رک جانا، خاموش ہو جانا، اور خود کو وقت دینا بھی زندگی کا حصہ ہوتا ہے، یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسان کو دوبارہ کھڑا ہونے کی طاقت دیتے ہیں۔

ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں

ہم ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش میں اپنی سوچ کو تھکا دیتے ہیں، ہر تنقید کا دفاع، ہر غلط فہمی کی وضاحت اور ہر الزام کی صفائی دینا ضروری نہیں ہوتا، بعض باتیں وقت پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ ہر غیر ضروری وضاحت سوچ کی توانائی کھا جاتی ہے، جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ خاموشی بھی ایک جواب ہو سکتی ہے تو سوچ ہلکی لگنے لگتی ہے۔

زندگی کو ہر وقت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں

زندگی کوئی عدالت نہیں جہاں ہر دن اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہو، نہ ہی یہ کوئی مقابلہ ہے جہاں ہر وقت آگے رہنا ضروری ہو، بعض اوقات پیچھے رہ جانا، سست ہو جانا، اور رک جانا بھی زندگی کا حصہ ہوتا ہے، جب انسان یہ حقیقت قبول کر لیتا ہے تو سوچ کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے، اور زندگی دوبارہ قابلِ برداشت محسوس ہونے لگتی ہے۔

سوچ کی تھکن اور خود سے دوری

سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب انسان خود سے ہی دور ہو جاتا ہے، اسے یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ وہ کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں، وہ دوسروں کی توقعات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اپنی آواز سننا بھول جاتا ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سوچ سب سے زیادہ تھکی ہوئی ہوتی ہے، اور انسان کو سب سے زیادہ خود سے جڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سوچ کو ہلکا کرنے کے چھوٹے فیصلے

سوچ کو ہلکا کرنے کے لیے بڑے فیصلوں کی نہیں بلکہ چھوٹے فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے، غیر ضروری بحث سے بچنا، اپنی حد مقرر کرنا، ہر وقت دستیاب نہ رہنا، اور کبھی کبھی خود کو ترجیح دینا وہ فیصلے ہیں جو آہستہ آہستہ ذہنی سکون واپس لاتے ہیں، یہ وہ عادتیں ہیں جو شور سے بھری زندگی میں خاموشی کے لمحے پیدا کرتی ہیں۔

جب سوچ سانس لیتی ہے تو زندگی بدلتی ہے

جس دن انسان اپنی سوچ کو آرام دینے کی اجازت دے دیتا ہے، اسی دن زندگی کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے، وہی معمولی لمحے دوبارہ خوشی دینے لگتے ہیں، دل دوبارہ جینے کو مان جاتا ہے، اور انسان خود کو کمزور نہیں بلکہ زندہ محسوس کرنے لگتا ہے، کیونکہ اصل مسئلہ کبھی تھکاوٹ نہیں ہوتا، مسئلہ ہمیشہ تھکی ہوئی سوچ ہوتی ہے۔

نتیجہ جو کسی سبق جیسا نہیں

یہ کوئی نصیحت نہیں، نہ کوئی سبق، بس ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ ہم سب کبھی نہ کبھی سوچ کی تھکن سے گزرتے ہیں، اور اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں، اصل سمجھداری یہ ہے کہ ہم وقت پر اس تھکن کو پہچان لیں، خود پر رحم کریں، اور زندگی کو اتنی سختی سے نہ پکڑیں کہ سانس لینا مشکل ہو جائے، کیونکہ جب سوچ ہلکی ہوتی ہے تو زندگی خود بخود آسان محسوس ہونے لگتی ہے۔

آپ کے اندر موجود وہ صلاحیتیں جو آپ نے آج تک استعمال نہیں کیں

 

آپ کے اندر موجود وہ صلاحیتیں جو آپ نے آج تک استعمال نہیں کیں


زندگی میں اکثر وہ لمحہ آتا ہے جب ہم رک کر خود کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں: “کیا یہی سب کچھ  ہے؟ کیا مجھ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں؟” یہ سوال معمولی نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے دل کی گہرائی اسے جھنجھوڑتی ہے کہ تم نے ابھی تک اپنے اندر چھپی ہوئی طاقتوں اور صلاحیتوں کی اصل شکل کو چھیڑا ہی نہیں۔ ہر انسان پیدا ہی کسی نہ کسی خاص خوبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن ہم میں سے زیادہ لوگ اپنی روزمرہ کی مصروفیات، ذمہ داریوں، خوف، اور معاشرتی دباؤ میں وہ صلاحیتیں دبا دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ انسان وہ زندگی نہیں جیتا جس کیلئے وہ بنایا گیا تھا۔

وہ صلاحیتیں جنہیں آپ نے کبھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا

انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ اپنی خوبیوں کو معمولی سمجھ لیتا ہے۔ ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔ آپ کے اندر وہ بات ہوسکتی ہے جس کا اندازہ آج تک آپ کو خود بھی نہیں ہوا، مثلاً:

 گفتگو کرنے کی قدرتی صلاحیت

کئی لوگ عام محفلوں میں ایسا بولتے ہیں کہ ماحول بدل جاتا ہے، لیکن انہوں نے کبھی اسے ہنر نہیں سمجھا۔ یہی لوگ اگر اسے پروفیشن بنا لیں تو بہترین ٹرینر، مشیر، یوٹیوبر یا اسپیکر بن سکتے ہیں۔ 

مشاہدہ کرنے کی قوت

کچھ لوگ خاموش رہتے ہیں لیکن وہ دنیا کو بہت باریک بینی سے دیکھتے ہیں۔ یہ قدرتی خوبی بہترین رائٹر، تھنکر، مسئلہ حل کرنے والے اور پلانر بننے کی بنیاد ہوتی ہے۔

نظم و ضبط رکھنے کی عادت

کچھ لوگ بے حد منظم ہوتے ہیں۔ چیزیں ترتیب سے رکھنا، کام وقت پر کرنا، دوسروں کے مقابلے میں بہتر سسٹم کے ساتھ زندگی گزارنا۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو آج کے دور میں مینیجمنٹ، آفس ورک، ایونٹ آرگنائزنگ، حتیٰ کہ چھوٹے بزنس میں بھی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ 

لوگوں کو سمجھنے کی اہلیت

کچھ لوگ صرف چہرہ دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ سامنے والا خوش ہے، پریشان ہے، یا جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ خوبی ہر شخص میں نہیں ہوتی اور یہ مستقبل میں بہت سی کامیابیوں کا دروازہ کھول سکتی ہے—HR، کسٹمر ڈیلنگ، کونسلنگ، یا ٹیم مینجمنٹ۔

آپ نے اپنی صلاحیتوں کو کیوں استعمال نہیں کیا؟

یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا جواب اتنا آسان بھی نہیں۔

خوف کی وجہ سے

اکثر لوگ وہ قدم اس لئے نہیں اٹھاتے جس سے ان کی اصل صلاحیت سامنے آسکتی ہے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ناکام ہوجائیں گے۔ ناکامی کا خوف انسان کی کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

خود کو کم تر سمجھنا

پاکستانی معاشرے میں بہت سے لوگ اپنی خوبیوں کو خود ہی نیچا دکھاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ کوئی خاص بات نہیں، حالانکہ وہی خوبی دوسروں کیلئے بہت بڑی ہوتی ہے۔

محولاتی دباؤ

خاندان، رشتہ دار، یا معاشرتی روایات اکثر انسان کی اصل قابلیت کو دبا دیتی ہیں۔ کئی لوگ صرف اس لئے اپنی پَسند کا کام چھوڑ دیتے ہیں کہ گھر والے کیا کہیں گے۔

موقع نہ ملنا

کچھ صلاحیتیں مواقع کا انتظار کرتی ہیں۔ اگر وہ صحیح وقت پر صحیح جگہ نہ ملیں تو وہ دھند میں گم ہوجاتی ہیں۔

ان چھپی ہوئی صلاحیتوں کو کیسے پہچانیں؟

یہ عمل مشکل نہیں، بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔

اپنے ماضی پر نظر ڈالیں

آپ نے زندگی میں جب بھی کچھ اچھا کیا، کسی نے تعریف کی، یا آپ کے کام نے کسی کو متاثر کیا۔ وہیں آپ کی صلاحیت چھپی ہوئی ہے۔

وہ کام دیکھیں جو آپ بغیر تھکے کرسکتے ہیں

جسے کرنے میں آپ کو خوشی ملتی ہے، وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا، وہ آپ کا قدرتی ہنر ہے۔

لوگوں کا فیڈبیک سنیں

کبھی کبھی لوگ آپ میں وہ خوبی دیکھ لیتے ہیں جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ ان کو سنیں اور اس کو صحیح طور پر استعمال کریں۔

اپنے کمفرٹ زون سے باہر آئیں

کچھ صلاحیتیں تب جاگتی ہیں جب انسان خود کو چیلنج کرتا ہے۔ جب تک آپ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نہیں نکلیں گے تب تک آپ کو اندازہ ہی نہیں ہو گا کے آپ کے اندر کتنا ٹیلنٹ موجود ہے۔

صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے عملی طریقے

محض پہچان کافی نہیں ہوتی۔ استعمال کرنا ضروری ہے۔

چھوٹا قدم اٹھائیں

اگربولنے کا ہنر ہے تو کسی چھوٹی محفل میں بات کرنا شروع کریں۔ اگر لکھنے کا شوق ہے تو روزانہ دو پیراگراف لکھنے کی عادت ڈالیں۔

غلطیوں سے ڈرنے کی بجائے سیکھیں

غلطیوں کے بغیر کوئی مہارت پیدا نہیں ہوتی۔ غلطی کریں گے تو آپ سیکھیں گے۔

اپنے ہنر کو کسی پلیٹ فارم تک لے جائیں

اب تو سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اسٹیج دے دیا ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، بلاگنگ، پوڈکاسٹ، جو مناسب لگے شروع کریں۔

تسلسل رکھیں

صلاحیتیں ایک دن میں نہیں چمکتیں، مگر تسلسل انہیں ہیرا بنا دیتا ہے۔

آپ کے اندر کون سی پوشیدہ طاقت موجود ہے؟

انسان کے اندر چند ایسی صلاحیتیں ہوتی ہیں جو پوری زندگی ساتھ رہتی ہیں لیکن وہ کبھی سامنے نہیں آتیں، جیسے:

فیصلہ کرنے کی قوت

کئی لوگ بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں لیکن انہیں علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ خوبی کاروبار، ٹیم لیڈرشپ اور فیملی سسٹم ہر جگہ قیمتی ہے۔

دوسروں کو بدلنے کی صلاحیت

کچھ لوگوں کی بات میں وہ وزن ہوتا ہے جو دوسروں کو متاثر کر دیتا ہے۔ اور یہ چیز کرنے سے آتی ہے۔

مستقل مزاجی

جب سب چھوڑ دیتے ہیں، یہ لوگ تب بھی ڈٹے رہتے ہیں۔ یہی مستقل مزاجی کامیابی کی جڑ ہے۔

مواقع کو پہچاننے کی ذہانت

کچھ لوگوں کو فوراً پتا چل جاتا ہے کہ یہ موقع اس کو پکڑلو۔ یہ خوبی انہیں زندگی میں بہت آگے لے جاتی ہے۔

اپنی صلاحیتوں کو چھپانا کیوں ظلم ہے؟

اپنی خوبیوں کو استعمال نہ کرنا خود پر بھی ظلم ہے اور دنیا پر بھی۔ دنیا کو آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنی صلاحیت چھپائے بیٹھے ہیں تو آپ نہ صرف خود کو روک رہے ہیں بلکہ معاشرہ بھی آپ کی وجہ سے ایک اچھا انسان کھو رہا ہے۔

اگر آج نہیں تو کب؟

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ وقت واپس نہیں آتا۔ اگر آپ نے وہ سب نہیں کیا جو آپ کرسکتے تھے، تو یہ احساس کبھی کبھی انسان کو پوری زندگی کھا جاتا ہے۔ اس لئے آج ہی اپنے دل سے پوچھیں۔ “میں کس چیز میں سب سے بہترہوں؟” پھر اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ 

اختتام

آپ کے اندر موجود صلاحیتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، صرف سو جاتی ہیں۔ انہیں جگانا آپ کا کام ہے۔ یہ دنیا صرف انہیں یاد رکھتی ہے جو اپنی صلاحیتیں استعمال کرتے ہیں، کچھ بنا کر جاتے ہیں، اور اپنے وجود کا نشان چھوڑتے ہیں۔ اور شاید… آپ بھی انہی لوگوں میں شامل ہونے کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ہنر آپ کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دےگا۔ آپ اپنن ملازمت سے ریٹائر تو ہو سکتے ہیں ہیں مگر صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے آپ بوڑھے نہیں ہوسکتے۔

وہ باتیں جو لوگ کبھی دل سے نہیں بھولتے

 

وہ باتیں جو لوگ کبھی دل سے نہیں بھولتے

زندگی لمبی ضرور ہے، مگر کچھ باتیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ انسان لاکھ چاہے، تب بھی انہیں اپنے دل سے نکال نہیں سکتا۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں، شہروں کے نقشے بدل جاتے ہیں، مگر چند لمحے، چند چہرے، چند جملے اور چند احساسات ہمیشہ کے لیے دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ دل ایک عجیب خزانہ ہے۔ یہ چاہے تو چھوٹی سی بات کو بھی عمر بھر کی یاد بنا دیتا ہے، اور چاہے تو بڑی سے بڑی تکلیف کو بھی برداشت کر کے چپ چاپ بھلا دیتا ہے۔

یہ تحریر اسی بارے میں ہے۔ ان باتوں، ان واقعات اور ان احساسات کے بارے میں جو لوگ کبھی نہیں بھولتے، چاہے برس بیت جائیں یا انسان خود بدل جائے۔

بچپن کے وہ سادہ دن

انسان اپنے بڑے ہونے میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے احساس ہی نہیں رہتا کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دور بچپن تھا۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ دور بھولتا بھی نہیں۔ وہ اسکول کے راستے، وہ دھوپ میں کھیلنا، وہ پانی کے گلاس کو ہاتھ میں پکڑ کر دوڑتے ہوئے گھر میں داخل ہونا… یہ سب تصویریں ذہن میں ہمیشہ رہتی ہیں۔ بچپن کی کچھ باتیں انسان کیوں نہیں بھول پاتا؟ اس لیے کہ وہ دور بغیر کسی ذمہ داری، بغیر کسی خوف، بغیر کسی حساب کتاب کے گزرتا ہے۔ بس جینا ہوتا ہے، کھل کر جینا ہوتا ہے۔ یہی سادگی دل کو ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔

محبت کی پہلی جھلک

چاہے انسان مانے یا نہ مانے، محبت کا پہلا احساس کبھی دل سے نہیں نکلتا۔ وہ پہلی بار دل کا دھڑکنا، وہ پہلی بار کسی کے نام پر مسکرانا، وہ پہلی بار کسی کی آواز سن کر اندر ایک عجیب سا سکون محسوس ہونا… یہ سب دل کی دیواروں میں ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ کچھ لوگوں کی پہلی محبت کامیاب ہوتی ہے، کچھ کی نہیں ہوتی۔ مگر یادیں کامیابی یا ناکامی کی پابند نہیں ہوتیں۔ وہ اپنی جگہ ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔

کسی کا دیا ہوا سچّا پیار

انسان سب کچھ بھول سکتا ہے، مگر وہ نہیں بھول سکتا جس نے اسے دل سے چاہا ہو۔ یہ چاہے ماں کی دعا ہو، باپ کا سہارا، بہن کا پیار، دوست کی وفاداری یا کسی خاص شخص کا خلوص۔ خالص محبت کی خوشبو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اپنی محبت کا اظہار لفظوں سے کرتے ہیں، کچھ عمل سے۔ مگر دونوں طرح کی محبت انسانی دل میں ہمیشہ ایک ہلکی سی حرارت چھوڑ جاتی ہے، جو وقت کے ساتھ بجھتی نہیں بلکہ اور گہری ہوتی جاتی ہے۔

وہ جملے جو دل میں تیر کی طرح لگتے ہیں

کچھ الفاظ انسان کے دل میں چبھ کر رہ جاتے ہیں۔ ایک سخت بات، ایک غلط فہم جملہ، ایک ناہموار لہجہ… یہ سب انسان کو اندر سے زخمی کر دیتے ہیں۔ اور یہ زخم اکثر عمر بھر رہ جاتے ہیں۔ دل جتنا نرم ہوتا ہے، اتنی جلدی ٹوٹتا ہے اور اتنی ہی دیر سے جڑتا ہے۔ کچھ باتیں انسان صرف سنتا نہیں، اپنے اندر قید کر لیتا ہے اور پھر برسوں تک بھول نہیں پاتا۔

وہ لوگ جنہوں نے ساتھ چھوڑ دیا

زندگی میں ہر کوئی ہمارے ساتھ نہیں رہتا۔ کچھ لوگ خود چھوڑ جاتے ہیں، کچھ حالات انہیں لے جاتے ہیں، کچھ فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور کچھ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھولے نہیں جاتے، کیونکہ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت دل کی گہرائی میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ انسان اکثر سوچتا رہتا ہے کہ اگر وہ لوگ رہ جاتے تو زندگی کیسی ہوتی؟ یہ سوال کبھی مکمل جواب نہیں پاتا، اور شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

غلطیاں جو انسان کبھی نہیں بھولتا

انسان کی اپنی غلطیاں بھی اس کے ساتھ رہتی ہیں۔ ایک غلط فیصلہ، ایک غلط لفظ، ایک غلط قدم… انسان خود کو معاف کر دے تو بھی دل اس غلطی کا وزن اٹھائے رکھتا ہے۔ کچھ غلطیاں انسان کو سکھاتی ہیں، کچھ بدل دیتی ہیں، کچھ توڑ دیتی ہیں، اور کچھ غلطیاں زندگی کا رخ ہی موڑ دیتی ہیں۔ مگر ایک بات طے ہے۔ انسان ان سے سیکھے یا نہ سیکھے، انہیں بھول نہیں سکتا۔

وہ وقت جب کوئی تھا اور پھر نہیں رہا

زندگی کا سب سے بڑا صدمہ وہ ہوتا ہے جب کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتا ہے۔ یہ جدائیاں انسان کی یادوں میں کبھی کمزور نہیں پڑتیں۔ وقت زخموں پر مرہم ضروررکھتا ہے، مگر بچھڑ جانے والوں کی یادیں کبھی نہیں مٹتی۔ انسان خود کو سمجھاتا رہتا ہے، زندگی گزار لیتا ہے، ہنستا بھی ہے، کام بھی کرتا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں وہ لوگ ہمیشہ آہستہ آہستہ سانس لے رہے ہوتے ہیں۔

وہ جگہیں جہاں زندگی بدل گئی

کچھ مقامات انسان کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔ کوئی درخت کے نیچے بیٹھا لمحہ، کسی چھت پر گزارا گیا وقت، کسی کمرے کی خاموشی، کسی سڑک کا آخری موڑ… انسان ان جگہوں پر شاید دوبارہ نہ جائے مگر یادیں ہمیشہ جاتی رہتی ہیں۔ ایسے مقامات صرف جگہیں نہیں ہوتے، یہ زندگی کے وہ موڑ ہوتے ہیں جنہوں نے انسان کی سوچ اور راستے بدل دیئے ہوتے ہیں۔

وہ لمحات جب انسان ٹوٹ کر رہ گیا تھا

کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان پوری طرح بکھر جاتا ہے۔ یہ لمحے بھولے نہیں جاتے۔ یہ تکلیفیں، یہ آنسو، یہ خاموشی۔ یہ سب دل میں محفوظ ہو کر انسان کے اندر ایک مضبوطی پیدا کردیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ انسان بہتر ہو جاتا ہے، مگر وہ لمحے اس کی زندگی کا حصہ ہمیشہ رہتے ہیں۔

وہ چھوٹے چھوٹے احسان جو بڑے لگتے ہیں

انسان ہمیشہ بڑے احسان یاد نہیں رکھتا، لیکن چھوٹے احسان بھول نہیں پاتا۔ جیسے کسی نے مشکل وقت میں مسکرا کر حوصلہ دیا ہو، کسی نے خاموشی سے کندھا پیش کیا ہو، کسی نے بنا کہے مدد کر دی ہو، کسی نے ایک جملے سے پوری ہمت واپس دے دی ہو۔ یہ چھوٹے احسان انسان کے دل میں ہمیشہ جگہ بنا لیتے ہیں۔

وہ لوگ جو خلوص سے ساتھ کھڑے رہے

مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگ کبھی نہیں بھولتے۔ چاہے وہ دوست ہوں، رشتے دار ہوں، یا کوئی ایسا شخص جس سے کوئی توقع نہ تھی۔ انسان جب مشکل میں ہوتا ہے تو اسے صرف ایک چیز یاد رہتی ہے۔ کس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کس نے چھوڑ دیا۔ یہی لوگ زندگی بھر کے دل کے قریب رہتے ہیں۔

زندگی کے وہ سبق جو کہیں اور نہیں ملتے

انسان کے حالات ہی اس کے سب سے بڑے استاد ہوتے ہیں۔ کوئی حادثہ، کوئی دھچکا، کوئی فیصلہ، کوئی کامیابی۔ یہ سب ایسے سبق دیتے ہیں جو کتابوں میں نہیں ملتے۔ یہ سبق انسان کو خود پر بھروسہ کرنا سکھاتے ہیں، لوگوں کو سمجھنا سکھاتے ہیں، وقت کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔ ایسے سبق بھولے نہیں جاتے کیونکہ یہ زندگی کے ٹکڑوں میں بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔

وہ خواب جو پورے نہ ہو سکے

ادھورے خواب، ادھوری خواہشیں، ادھورے راستے۔ یہ سب دل سے نہیں نکلتے۔ انسان جیتا ہے مگر کہیں دل کے اندر ایک چھوٹا سا خلا رہ جاتا ہے، جو اسے یاد دلاتا ہے کہ کچھ خواہشیں وقت پر پوری نہیں ہو سکی۔ یہ ادھورے خواب انسان کو بار بار سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ شاید… اگر… کاش…

آخر میں… دل یاد کیوں رکھتا ہے؟

دل صرف وہی چیزیں یاد رکھتا ہے جو یا تو بےحد خوبصورت ہوں یا بےحد تکلیف دہ۔ دل ان باتوں کو یاد رکھتا ہے جنہوں نے انسان کو بدلا ہو، جھنجھوڑا ہو، مضبوط کیا ہو، یا کہیں نہ کہیں اسے چھوا ہو۔ وقت گزرتا ہے، مگر دل وہ سب سمیٹ کر رکھتا ہے جو ہمارے اندر کی کہانی بناتا ہے۔ انسان اپنے قہقہے، اپنے آنسو، اپنے زخم، اپنی محبتیں، اپنے خواب اور اپنے بچھڑ جانے والے سب دل کے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔ ہمیشہ کے لیے۔

کیا بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں؟

 

کیا بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں؟

زندگی کا سفر عجیب ہے۔ جوانی میں لگتا ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں، ہر مسئلے کا حل ہمارے پاس ہے اور دنیا کو ہمیں ہی سمجھنا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، انسان سمجھتا ہے کہ اصل عقل اور اصل فائدہ تو اُن لوگوں کے پاس ہے جنہوں نے زندگی کے پچاس ساٹھ سال گزار کر دنیا کو قریب سے دیکھا ہوتا ہے۔ یہ سوال آج بھی اکثر لوگ پوچھتے ہیں بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں یا جوان؟ حقیقت اتنی سادہ نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ تجربہ عمر کے ساتھ بڑھتا ہے اور تجربہ وہ دولت ہے جو کسی کتاب سے نہیں ملتی۔

عمر کے ساتھ آنے والی گہری سمجھ

بوڑھے لوگ زندگی کو ٹھنڈے دماغ سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مسئلہ چیخنے چلانے سے حل نہیں ہوتا۔ وہ جلدی فیصلے نہیں کرتے اور نہ ہی ہر بات پر جذبات میں آتے ہیں۔ ان کے پاس جو سمجھ ہوتی ہے وہ کئی حادثوں، غلطیوں اور کامیابیوں کے نتیجے میں بنتی ہے۔ زندگی کو جتنا قریب سے دیکھا جاتا ہے، اتنی ہی گہری سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بوڑھے لوگ اکثر بہتر مشورہ دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ جذبات سے زیادہ حقیقت پسند ہوتے ہیں۔

تجربہ: وہ دولت جو صرف وقت دیتا ہے

دنیا کے بڑے بزنس، بڑی کمپنیاں اور بڑی کامیابیاں صرف جوانوں نے نہیں بنائیں۔ کئی لوگ اپنی زندگی کا اصل مقام پچاس یا ساٹھ کے بعد پاتے ہیں۔ مشہور مثال دیکھیں: کرنل سینڈرز نے کے ایف سی کی بنیاد ساٹھ سال کی عمر کے بعد رکھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بوڑھا ہونا ناکارہ ہونا نہیں، بلکہ استعمال نہ ہونا نقصان ہے۔ انسان جتنا زیادہ دیکھے گا، اتنا زیادہ سیکھے گا۔ اور جتنا زیادہ سیکھے گا، اتنا زیادہ کارآمد ہوگا۔

برداشت اور حکمت: جو جوانی میں نہیں ہوتیں

جوانی میں انسان جلدی ناراض ہو جاتا ہے، جلدی فیصلہ کرتا ہے اور جلدی جذباتی ہوجاتا ہے۔ عمر کے ساتھ انسان میں برداشت آتی ہے۔ برداشت ایک خوبی ہے جو معاملے کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔ بوڑھے لوگ وقتی فائدے کے بجائے دور کی سوچ رکھتے ہیں، اسی لیے ان کے فیصلے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

خاندان کا ستون کون؟ بوڑھے لوگ

گھر میں بزرگ ہوں تو گھر میں رہنمائی ہوتی ہے۔ ان کی موجودگی ایک سائے کی طرح ہوتی ہے جو راستہ بھی دکھاتے ہیں اور غلطی سے بھی بچاتے ہیں۔ چاہے مالی فیصلے ہوں، رشتوں کے مسائل ہوں یا بچوں کی تربیت، بوڑھے لوگوں کی بات زیادہ وزن رکھتی ہے۔ ان کی وہ باتیں جو جوانی میں چبھتی تھیں، وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوتی ہیں۔

مشکل حالات میں بوڑھے لوگوں کی بصیرت

کسی مشکل صورتحال میں اگر نوجوانوں اور بزرگوں سے مشورہ لیا جائے تو فرق صاف نظر آتا ہے۔ نوجوان حل ڈھونڈنے میں تیزی دکھاتے ہیں، جبکہ بزرگ مسئلے کی جڑ بھی دکھاتے ہیں اور حل بھی سمجھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مسئلہ دو دن میں حل نہیں ہوتا۔ ان کی سوچ میں وہ پختگی ہوتی ہے جو صرف وقت ہی دے سکتا ہے۔

بوڑھے لوگ غلطیوں سے سیکھ چکے ہوتے ہیں

جوانی میں انسان کئی غلطیاں کرتا ہے، فیصلے غلط بھی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی نقصان بھی ہوتا ہے۔
لیکن وقت انسان کو سکھا دیتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کہاں رکنا ہے، کہاں بات کرنی ہے، کہاں چپ رہنا ہے۔ یہ سب عمر کے بعد ہی سمجھ آتا ہے۔ اسی لیے بوڑھے لوگ کام کے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے غلطیاں دیکھ کر اپنی سوچ کو ٹھیک کیا ہوتا ہے۔

زندگی کے اتار چڑھاؤ کا حقیقی مشاہدہ

زندگی صرف کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ ناکامیوں کا تسلسل بھی ہے۔ بوڑھے لوگ وہ سب کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں جو نوجوان ابھی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ غربت، خوشحالی، مسائل، آسانیاں، رشتے، ٹوٹ پھوٹ سب کچھ انہوں نے بھگتا ہوتا ہے۔ یہی تجربہ انہیں زیادہ قابلِ اعتماد بناتا ہے۔

سماجی مسائل میں بوڑھوں کی بصیرت

معاشرے میں عجیب بات یہ ہے کہ ہم بوڑھے لوگوں کی رائے کم سنتے ہیں جبکہ اُن کے پاس حقیقت زیادہ ہوتی ہے۔ ہر مسئلے کو جذبات سے نہیں بلکہ تجربے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ بوڑھے لوگ دیکھ چکے ہوتے ہیں کہ حالات کیسے بدلتے ہیں، لوگ کیسے بدلتے ہیں اور فیصلے کیسے انجام دیتے ہیں۔

پچاس کے بعد ذہن زیادہ مضبوط ہوتا ہے

ایک عام بات ہے کہ پچاس سال کے بعد انسان سست ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذہن زیادہ حکمت والا ہوجاتا ہے۔ سوچ میں گہرائی آتی ہے۔ فیصلوں میں ٹھہراؤ آتا ہے۔ بات میں وزن آتا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بھی نوجوان میں نہیں ہوتیں۔

نئی نسل اور پرانی نسل کے درمیان پل

اگر گھر میں بزرگ نہ ہوں تو نئی نسل الجھن کا شکار ہوجاتی ہے۔ بزرگ راستہ دکھانے والے ہوتے ہیں۔
وہ حالات کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ نئی نسل کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ دونوں زمانے دیکھ چکے ہوتے ہیں پرانا بھی اور نیا بھی۔

مستقبل کی منصوبہ بندی میں بوڑھے لوگ بہترکر سکتے ہیں

ہر فیصلہ کچھ تجربہ مانگتا ہے۔ خاندان کی مالی حالت ہو، بچوں کی تعلیم ہو یا گھر کے بڑے فیصلے —
بوڑھے لوگوں کی رائے اکثر ٹھیک نکلتی ہے کیونکہ ان کے پاس وقت کی آنکھ سے دیکھا ہوا علم ہوتا ہے۔
ان کے فیصلے جذبات کے بغیر ہوتے ہیں، اسی لیے دیرپا ہوتے ہیں۔

ٹیکنالوجی میں پیچھے مگر عقل میں آگے

یہ سچ ہے کہ آج کی ٹیکنالوجی کو نوجوان زیادہ بہتر استعمال کرتے ہیں، مگر عقل اور سمجھ کے فیصلے آج بھی بوڑھے لوگ ہی کرتے ہیں۔ کام بڑی مشینوں سے نہیں چلتے، صحیح فیصلوں سے چلتے ہیں۔ اسی لیے زندگی اور تجربہ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔

صرف جسم بوڑھا ہوتا ہے، عقل نہیں

یہ ایک غلط فہمی ہے کہ بوڑھا انسان ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جسم بوڑھا ہوتا ہے مگر عقل نہیں۔ ایک شخص پچاس یا ساٹھ کا ہو کر ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہوسکتا ہے، جبکہ نوجوان ذہنی طور پر کمزور۔ سوچ اور مشاہدہ وہ دولت ہے جو بڑھاپے میں اپنی طاقت دکھاتی ہے۔

بوڑھے لوگوں کی ایک نظر کافی ہوتی ہے

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ نوجوان کئی دن سوچتے رہتے ہیں لیکن بزرگ ایک نظر میں بات سمجھ جاتے ہیں۔ وہ چیزوں کی گہرائی جانتے ہیں۔ لوگوں کو پہچاننے کا فن جانتے ہیں۔ باتوں کے پیچھے معنی سمجھتے ہیں۔ یہ سب صرف دیکھے بھالے تجربے سے آتا ہے۔

کارآمد ہونے کا اصل مطلب

کارآمد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بھاگ دوڑ کرے۔ اصل کارآمدی یہ ہے کہ انسان کا وجود دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ مشورہ ہو، رہنمائی ہو، فیصلہ ہو یا زندگی کی کسی مشکل گھڑی میں سہارا بوڑھے لوگ اکثر ان سب میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔

آخر میں سچ یہی ہے

اگر ہم سوچیں تو سوال کا جواب بہت واضح ہے ہاں، بوڑھے لوگ زیادہ کارآمد ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے وہ دیکھا ہوتا ہے جو نوجوان ابھی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وہ سمجھ ہوتی ہے جو کتابوں میں نہیں لکھی ہوتی۔ اور ان کی باتوں میں وہ گہرائی ہوتی ہے جو صرف وقت دے سکتا ہے۔

ہمیں بزرگوں سے کیا سیکھنا چاہیے

بزرگ ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی ایک دوڑ نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ جلدی میں فیصلے نقصان دیتے ہیں۔ برداشت کرنے والا انسان ہی کامیاب ہوتا ہے۔
اور انسان کی اصل طاقت اس کی عقل اور تجربہ ہوتی ہے نا کہ اس کی طاقت۔